کشمیر: صدر کے دورے پر کڑی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین خان اتوار کو مغربی ممالک کے تین ہفتوں کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست کے سربراہ اتنا طویل دورہ کر رہے ہیں۔ کشمیر میں حزبِ مخالف کی جماعتوں نے صدر کے اس دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقے کے سربراہوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی خزانے کو بے مقصد دوروں پر ضائع کریں۔ ایک اطلاع کے مطابق اس تین ملکی دورے پر چھتیس لاکھ روپے خرچ آئے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر کے بیرون ممالک کے دوروں کے لیے موجودہ مالی سال میں ابتدائی طور پر پندرہ لاکھ روپے مختص تھے اور یہ رقم پہلے ہی خرچ کی جا چکی ہے اور بعد ازاں دوروں کے لیے چھتیس لاکھ روپے کا مزید اضافہ کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کا موجودہ دورہ ممکن ہوسکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مالی سال ختم ہونے سے پہلے یہ رقم خرچ کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزماں کا کہنا ہے کہ ریاست کو امدادی تنظیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور صدر اور وزیرِاعظم بیرون ممالک سیر سپاٹوں پر قومی دولت لٹا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ رقم متاثرہ علاقوں کے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرنی چاہیے تھی نہ کہ یہ رقم بے مقصد دوروں پر خرچ کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر کی حکومت نے اپنے بجٹ سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا اور تعمیرِ نو کے لئے بھیک مانگی جا رہی ہے لیکن دوسری طرف حکمران اپنی شاہ خرچیوں پر قومی دولت ضائع کر رہے ہیں۔ سن انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت مخالف تحریک کے آغاز کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکمرانوں نے مختلف مواقع پر بیرون ممالک کے دورے کیے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی لیکن اب عام آدمی یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکمرانوں نے کشمیر کی تحریک کے نام پر بیرون ممالک کے دوروں پر اربوں روپے خرچ کر کے کیا حاصل کیا ہے۔ | اسی بارے میں متاثرینِ زلزلہ کا مظاہرہ03 June, 2007 | پاکستان باغ: امدادی کارروائیاں معطل 09 May, 2007 | پاکستان زلزلے کا امدادی سامان برآمد 21 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||