BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 22:26 GMT 03:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: صدر کے دورے پر کڑی تنقید

راجہ ذوالقرنین خان
صدر کےاس تین ملکی دورے پر چھتیس لاکھ روپے خرچ آئے گا
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین خان اتوار کو مغربی ممالک کے تین ہفتوں کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست کے سربراہ اتنا طویل دورہ کر رہے ہیں۔

کشمیر میں حزبِ مخالف کی جماعتوں نے صدر کے اس دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقے کے سربراہوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی خزانے کو بے مقصد دوروں پر ضائع کریں۔

ایک اطلاع کے مطابق اس تین ملکی دورے پر چھتیس لاکھ روپے خرچ آئے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر کے بیرون ممالک کے دوروں کے لیے موجودہ مالی سال میں ابتدائی طور پر پندرہ لاکھ روپے مختص تھے اور یہ رقم پہلے ہی خرچ کی جا چکی ہے اور بعد ازاں دوروں کے لیے چھتیس لاکھ روپے کا مزید اضافہ کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کا موجودہ دورہ ممکن ہوسکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مالی سال ختم ہونے سے پہلے یہ رقم خرچ کرنا چاہتے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزماں کا کہنا ہے کہ ریاست کو امدادی تنظیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور صدر اور وزیرِاعظم بیرون ممالک سیر سپاٹوں پر قومی دولت لٹا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ رقم متاثرہ علاقوں کے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرنی چاہیے تھی نہ کہ یہ رقم بے مقصد دوروں پر خرچ کی جا رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر کی حکومت نے اپنے بجٹ سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا اور تعمیرِ نو کے لئے بھیک مانگی جا رہی ہے لیکن دوسری طرف حکمران اپنی شاہ خرچیوں پر قومی دولت ضائع کر رہے ہیں۔

سن انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت مخالف تحریک کے آغاز کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکمرانوں نے مختلف مواقع پر بیرون ممالک کے دورے کیے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی لیکن اب عام آدمی یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکمرانوں نے کشمیر کی تحریک کے نام پر بیرون ممالک کے دوروں پر اربوں روپے خرچ کر کے کیا حاصل کیا ہے۔

اسی بارے میں
متاثرینِ زلزلہ کا مظاہرہ
03 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد