’کشمیر کا حل آئیڈیل نہیں ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل متعلقہ فریقوں میں سے کسی کے لیے بھی پسندیدہ ترین نہیں ہوگا۔ بی بی سی کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ میں ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ’آخر کار کشمیر کا حل ایسا ہوگا جو ہندوستانیوں، پاکستانیوں یا کشمیریوں کی اکثریت کے نزدیک بہترین حل نہیں ہوگا‘۔ خورشید محمود قصوری پاکستان اور انڈیا کی آزادی کے ساٹھ سال مکمل ہونے ہر ایک پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’مخصوص حالات کے تحت یہی حل بہترین ہو گا۔ پاکستان، انڈیا یا کمشیر کے لیے یہ کوئی آئیڈیل حل نہیں ہو گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کشمیر کا کوئی حل نہیں نکل سکے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ کشمیر پر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں دو طرفہ اقدامات اٹھانے ہوں گے اور پاکستان کی جانب سے کسی یکطرفہ پالیسی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا‘۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کے خلاف سترہ سال سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ ساٹھ سال کے دوران کشمیر کے مسئلہ پر انڈیا اور پاکستان کے مابین دو جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ بدھ کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند گروہوں نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ہڑتال کی اپیل کی تھی اور اس دن کو ’یوم سیاہ‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی تک جشن کا تصور بےمعنی ہے۔ |
اسی بارے میں ’تنازعۂ کشمیر کا حل سیاست میں‘20 January, 2007 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر کا حل جلد متوقع‘ 19 January, 2007 | پاکستان کشمیر میں حملےکا حقیقی خطرہ: پولیس03 August, 2007 | پاکستان ’ کشمیر کا حل، چین کا اہم کردار‘24 May, 2007 | پاکستان ’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ‘02 May, 2007 | پاکستان ’جنرل مشرف کا کشمیر حل مسترد‘02 March, 2007 | پاکستان کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں07 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||