BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 00:29 GMT 05:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں حملےکا حقیقی خطرہ: پولیس

غیر معمولی سکیورٹی
راستوں پر ریت کی بوریوں پر مشتمل بنکرز قائم کیے گئے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیےگئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سکیورٹی انتظامات پاکستان میں چینی باشندوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر خود کش حملوں کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ اس قسم کے واقعات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی پیش آ سکتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے قائم مقام سربراہ فہیم عباسی بی بی سی کو بتایا کہ تخریب کار اور شدت پسند عناصر کشمیر کے اس علاقے میں داخل ہو کر حملے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’حملے کا خطرہ حقیقی ہے اور یہ کہ ہمیں اس ضمن میں مختلف ذرائع سے اطلاعات بھی آ رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے حفاظتی اقدامات کے طور پر سکیورٹی مزید بڑھا دی ہے‘۔

مظفرآباد میں نیو سیکرٹریٹ کو جانے والے دونوں راستوں پر ریت کی بوریوں پر مشتمل بنکرز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر مسلح پولیس اہلکار پہرہ دے رہے ہیں اور پرائیویٹ گاڑیوں کے اندر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس علاقے میں قانون ساز اسمبلی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتوں کے علاوہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین اور سیکرٹریوں کے دفاتر ہیں اور اسی طرح سے مظفرآباد کے داخلی راستوں پر بھی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ صورت حال صرف دارالحکومت میں ہی نہیں بلکہ حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اس علاقے کے دیگر چھ اضلاع میں بھی عمومی طور پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور اہم تنصیبات اور دفاتر کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں خاص طور پر چینی باشندوں کی بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے قائم مقام سربراہ فہیم عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں پاکستان میں غیر ملکیوں خاص طور پر چینی باشندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے تناظر میں کشمیر کے اس علاقے میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

زلزلے کے بعد کشمیر کے اس علاقے میں کافی تعداد میں غیر ملکی کام کر رہے ہیں اور چینی باشندے جنوبی ضلع میر پور میں منگلا جھیل کو اونچا کرنے کے منصوبے پر پہلے سے ہی کام میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
ناکام خودکش حملہ، دو ہلاک
02 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد