جنگجو کمانڈر گارڈ سمیت ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی قصبہ بانڈی پورہ میں فوج نے ایک آپریشن کے دوران غیرمقامی جنگجو کمانڈر کو ذاتی محافظ سمیت ہلاک کر دیا ہے جبکہ تصادم میں تین فوجی اہلکار اور ایک مقامی شہری بھی زخمی ہوگئے۔ آپریشن کے دوران چودہ مکان خاکستر ہوگئے جس کے نتیجہ میں سترہ کنبوں پر مشتمل پونے دو سو افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ رہائشی مکانات کی بڑے پیمانے پر تباہی کے خلاف لوگوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ تصادم بستی سے ایک کلومیٹر دور ہوا اور اس میں فوج کو پہنچنے والی جانی نقصان کے بعد بستی کو گن پاؤڈر چھڑک کر راکھ کر دیا گیا۔ لیکن فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ جنگجو بستی میں موجود تھے اور انہیں محاصرے کے دوران خود سپردگی کی پیشکش کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے فوج پر گولی چلائی اور دوطرفہ فائرنگ میں مکانات کو نقصان پہنچا۔ تصادم کے حوالے سے فوجی حکام نے بتایا کہ دو سپاہی بھی شدید زخمی ہوگئے، جنہیں علاج و معالجہ کے لیے سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ بانڈی پورہ کے خطے میں انسداد تشدد مہم کی نگرانی کرنے والی فوج کی 81 ماؤنٹین ڈویژن کے بریگیڈیئر جی یو گرگ نے بی بی سی کو بتایا: ’لوگوں نے دراصل پاکستانی جنگجوؤں کو گھر میں پناہ دے رکھی تھی۔‘ انہوں نے بتایا: ’جب ہماری ٹکڑی مصدقہ اطلاع ملنے پر وہاں پہنچی تو انہوں نے گولی چلائی جس میں ہمارے دو جوان زخمی ہوگئے، اس کے بعد تصادم ہوا اور وہ دونوں مارے گئے۔ مکانات بے شک جلے ہیں لیکن آّگ کراس فائرنگ کی وجہ سے لگی۔ لوگوں نے غلط الزام عائد کیا ہے۔‘
مقامی رہائشی عبدالمجید صوفی کے مطابق فوج نے بدھ کی شب بستی کے ایک نوجوان عبدالرزاق لون کو گرفتار کرلیا اور جمعرات کو علی الصبح بستی کا محاصرہ کر لیا۔ مجید کا کہنا ہے کہ ’محاصرہ تو تھا لیکن ہم نے تھوڑی دور واقع دھان کے کھیت میں فائرنگ کی آواز سنی، لیکن پھر جب ہم باہر نکلے تو آگ ہی آگ تھی۔‘ عینی شاہدین نے بتایا کہ بستی میں چودہ مکانوں کی ایک مربوط قطار خاکستر ہے اورسبھی گھرانوں کا اسباب خانہ راکھ ہوچکا ہے۔ ایک گاؤ خانہ میں مویشیوں کی بُھن چُکی لاشیں بھی دیکھی گئیں۔ عبدالرحمٰن نامی شہری سولہ ہزار روپے میں خریدے بیل کی جلی بھنی لاش کو دیکھ کر چِلا رہا تھا۔ ’اب کون جوتے گا میرے کھیت، میں نے کیا کیا تھا؟‘ متاثرہ بستی اور گرد و نواح کے لوگوں نے بانڈی پورہ شاہراہ پر دھرنا دیا جس میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نائب تحصیل دار بانڈی پورہ غلام محمد میر نے بتایا کہ ’مظاہرین مارے گئے شدت پسندوں کی لاشوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ گرفتار شدہ عبدالرزاق کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘ اس سے قبل دو اکتوبر کو ٹنگ مرگ علاقے میں بھی تیس گھنٹہ کی ایک طویل جھڑپ کے بعد گیارہ رہائشی مکان تباہ ہوگئے تھے۔ اس آپریشن میں نو غیرکشمیری جنگجو مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں کشمیر: جنگ بندی اعلان اور ممکنہ ردعمل09 October, 2007 | انڈیا آٹھ فوجی،سات جنگجوہلاک11 October, 2007 | انڈیا کشمیر:دو فوجی،4شدت پسند ہلاک06 October, 2007 | انڈیا گاندھی رول ماڈل، آزاد کے بیان پر تنقید05 October, 2007 | انڈیا کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک03 October, 2007 | انڈیا محاصرہ ختم، 2 شدت پسند ہلاک30 September, 2007 | انڈیا کشمیر: مسجد کا فوجی محاصرہ29 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||