آٹھ فوجی،سات جنگجوہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرآباد میں مقیم کشمیر کی مسلح لیڈرشپ متحدہ جہاد کونسل کی طرف سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اعلان کردہ سہ روزہ سیزفائر سے ایک روز قبل تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ فوجیوں اور سات مسلح جنگجوؤں سمیت سولہ افراد مارے گئے ہیں۔ جبکہ سرینگر کے وسط میں نیم فوجی عملہ کی ایک عارضی چھاؤنی پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق جمعرات کی شام ساڑھے چھ بجے دو مسلح جنگجوؤں نے جھیل ڈل کے کنارے واقع ہوٹل بلیوارڑ میں مقیم سی آر پی ایف کی ایک عارضی چھاؤنی کے صدر دروازہ پر ہتھ گولہ پھینکا اور اندر جاکر چھاؤنی کے ایک کمرے میں پناہ لے لی۔ اس کے بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے ہوٹل کا محاصرہ کر کے خودکش جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ سی آر پی ایف کے ایک ترجمان کے مطابق ایک حملہ آور جوابی کارروائی میں زخمی ہوگیا ہے تاہم آپریشن جاری ہے۔ اعلی فوجی اور پولیس حکام آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل فوجی ترجمان کے مطابق جمعرات کی صبح شمالی کشمیر میں آپریشن کے دوران ایک دیرنیہ کمانڈر اور اس کا ساتھی مارا گیا۔ مارے گئے مسلح جنگجو کی شناخت ممنوعہ جمعیت المجاہدین کے چیف کمانڈر ابوحمزہ کے بطور کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آپریشن میں اسداللہ خان نامی شہری کا مکان پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ دریں اثناء ایک دھماکے میں سرکاری طور پر پانچ فوجی اہلکاروں اور ایک مقامی شہری کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ تیرہ فوجی جوان زخمی ہوگئے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے پٹن علاقہ میں ہونے والا یہ دھماکہ ایک چھاؤنی میں قائم کینٹین میں گیس سلینڈر پھٹنے سے ہوا۔ لیکن ممنوعہ حزب المجاہدین کے ترجمان جنید الاسلام نے نامہ نگاروں کو فون پر بتایا کہ حزب کے ایک مسلح دستے نے چھاؤنی میں بارود نصب کیا تھا اور بعد ازاں رِموٹ کنٹرول کے ذریعہ اس وقت دھماکہ کیا گیا جب کینٹین میں فوجی جوان ٹیلی ویژن پرکرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔ شمالی رینچ کے ڈی آئی جی پولیس ڈاکٹر سری نواسن نے پانچ اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مرنے والوں کے جسمانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے تھے، یہاں تک کہ کچھ لوگوں کے اندرونی اعضاء بھی کیمپ کے احاطے میں بکھرے پڑے تھے۔ پولیس ترجمان نے بی بی سی کوبتایا کہ جمعرات کی صبح شمالی کشمیر کے ہی رفیع آباد علاقہ میں گھات میں بیٹھے مسلح جنگجوؤں نے ایک فوجی کانوائے پر ہتھ گولے پھینکے اور فائرنگ کی۔ حملے میں پولیس کے مطابق ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک جوان ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سے قبل جنوبی ضلع پلوامہ کے شوپیان علاقے میں فوج نے ایک جھڑپ میں تین جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق کنٹرول لائن کے کیرن سیکٹر میں دراندازوں کے ایک گروپ کو فوج نے محصور کرلیا اور چھ گھنٹوں کے آپریشن میں دو مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مسلح جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مظفرآباد میں مقیم کشمیر کی مسلح لیڈرشپ متحدہ جہاد کونسل نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بارہ اکتوبر سے چودہ اکتوبر تک تمام مسلح شدت پسند گروپوں کو کارروائیاں معطل کرنے کی تلقین کی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: جنگ بندی اعلان اور ممکنہ ردعمل09 October, 2007 | انڈیا کشمیر:دو فوجی،4شدت پسند ہلاک06 October, 2007 | انڈیا گاندھی رول ماڈل، آزاد کے بیان پر تنقید05 October, 2007 | انڈیا کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک03 October, 2007 | انڈیا محاصرہ ختم، 2 شدت پسند ہلاک30 September, 2007 | انڈیا کشمیر: مسجد کا فوجی محاصرہ29 September, 2007 | انڈیا کشمیر: ’پندرہ شدت پسند ہلاک‘18 September, 2007 | انڈیا شہری کی ہلاکت، کانسٹیبل گرفتار27 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||