BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 21:13 GMT 02:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:’بارودی سرنگوں پر پابندی‘

بارودی سرنگ(فائل فوٹو)
کشمیر میں زیادہ تر سرنگیں کنٹرول لائن کے آس پاس بچھائی گئی ہیں
ہندوستانی زیرانتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت میں مصروف عسکری گروپوں کے اتحاد یونائیٹڈ جہاد کونسل نے ایک عالمی امن انجمن کے ساتھ معاہدہ کے بعد ہندوستانی فوج کے خلاف آپریشنوں میں بلاامتیاز جان لینے والی بارودی سرنگوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تاہم بھارتی فوج نے نے اسے ’امیج بلڈنگ‘ کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلح گروپوں نے کبھی بھی ایسی بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کیا۔ فوجی ترجمان کرنل اے کے ماتھر کا کہنا ہے کہ ’زمینی سطح پر اس پابندی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ مسلح جنگجو یہاں ہمیشہ آئی ای ڈی (طے شدہ نشانہ کو زد میں لانے والی سرنگ) استعمال کرتی رہی ہے۔ یہ تو صرف امیج بلڈنگ ہے‘۔

معاہدہ کے بعد جہاد کونسل سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین نے بارودی سرنگوں کے استعمال کو’اندھی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ’ کشمیر میں جہادی تنظیموں نے کبھی ان کا استعمال کیا نہ مستقبل میں کریں گی‘۔

انسانی قدموں کے دباؤ سے پھٹنے والی بارودی سرنگوں کے خلاف مہم چلانے والے عالمی ادارے’انٹرنیشنل کیمپین ٹو بین لینڈ مائنز‘ سے وابستہ کشمیری نوجوان خُرم پرویز نے پاکستانی دورے سے واپسی پر سرینگر میں بتایا کہ جہاد کونسل نے آئی سی بی ایل کے مؤقف سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

خُرم پرویز نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مقیم جہاد کونسل کے سربراہ سے ملاقات کی جس دوران سید صلاح الدین نے معاہدہ پر باقاعدہ دستخط بھی کیے۔

آئی سی بی ایل کے سربراہ سِلویل بریگارٹ نے اس حوالے سے ایک ای میل بیان میں جہاد کونسل کی طرف سے بارودی سرنگوں پر پابندی سے متعلق معاہدہ پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں کشمیر میں سرگرم کئی شدت پسند گروپوں نے ایسی بارودی سرنگوں کا استعمال کیا جن سے عام شہریوں کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں جنوری اُنیس سو نوے سے سال دو ہزار چھ تک بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے پندرہ ہزار تین سو ستانوے واقعات رونما ہوئے جن میں دس ہزار افراد ہلاک اور اکیس ہزار دیگر زخمی ہوگئے۔ ان میں سے زیادہ تر سرنگیں کنٹرول لائن کے آس پاس بچھائی گئیں ہیں۔

تاہم صلاح الدین نے مسٹر بریگارٹ کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ’جموں کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے نمائندوں کی حیثیت سے ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ انسان کش بارودی سرنگیں نہ ہم استعمال کرتے تھے نہ آئندہ کریں گے کیونکہ اس سے ہزاروں لوگ ہلاک اور ہزاروں معذور ہو چکے ہیں‘۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں جنوری اُنیس سو نوے سے سال دو ہزار چھ تک بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے پندرہ ہزار تین سو ستانوے واقعات رونما ہوئے جن میں دس ہزار افراد ہلاک اور اکیس ہزار دیگر زخمی ہوگئے۔ ان میں سے زیادہ تر سرنگیں کنٹرول لائن کے آس پاس بچھائی گئیں ہیں۔

ریاست کے ہند نواز لیڈر پروفیسر بھیم سنگھ نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا کہ’سنہ دو ہزار ایک میں دس ماہ تک کنٹرول لائن پر پاکستان اور ہندوستان کی افواج آمنے سامنے رہیں۔ اس دوران کنٹرول لائن کے وسیع علاقے کو بارودی سرنگوں سے پٹ دیا گیا تاکہ جنگ کی آڑ میں درانداز یہاں نہ گُھسنے پائیں لیکن وزیراعلیٰ کی یقین دہانیوں کے باوجود ان مائن فیلڈ کو ابھی تک صاف نہیں کیا گیا‘۔

بھیم سنگھ کا کہنا ہے کہ قریب ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبی اور چونتیس کلومیٹر چوڑی کنڑول لائن پر واقع سینکڑوں دیہات میں ان بارودی سرنگوں کی وجہ سے لوگ کھیتی باڑی سے محروم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد