بھارتی کشمیر عالمی حدت کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اکتوبر کے پہلے تین ہفتوں میں ہونےوالے آتشزدگی کے پانچ سو بیس واقعات کوماحولیات کے ماہرین عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ سے منسوب کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر فائر سروسز کے ڈائریکٹر جنرل غلام احمد بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اکتوبر کے مہینے میں صوبے کے مختلف علاقوں کے جنگلات اور بستیوں میں آتشزدگی کے پانچ سو بیس واقعات رونما ہوئے جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی۔ ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی عالمی تنظیم ایکشن ایڈ سے وابستہ ارجمند حُسین طالب نے اس حوالے سے بی بی سی کوبتایا کہ جنگلات اور جنگلوں سے ملحقہ بستیوں پر عالمی حِدت کا براہ راست اثر پڑتا ہے، جسکے نتیجہ میں طغیانی اور آگ لگنے کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو جھاڑیوں اور گھاس پھوس و دیگر پیڑ پودوں میں نمی بہت کم ہوجاتی ہے۔ وہ اُس تازہ واقع کو بھی گلوبل وارمنگ کا ہی نتیجہ سمجھتے ہیں جس نے گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے ڈوڈہ خطے میں مارگی نامی گاؤں کو راکھ کرکے رکھ دیا۔ اس سلسلے میں مسٹر ارجمند نے ایکشن ایڈ کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: ’پچھلے بیس سال میں کشمیر کے درجہ حرارت میں ایک اعشاریہ چار ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے جبکہ جموں میں دو اعشاریہ بتیس ڈگری سیلسیس کا اضافہ ریکارڑ کیاگیا۔‘ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں امسال غیرمتوقع برفباری اور گرمی پڑی۔ مئی کے مہینے میں کشمیر کے بالائی خطوں میں برفباری سے درجہ حرارت میں معمول سے دس ڈگری سیلسیس کی گراوٹ ریکارڑ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کشمیر میں برفباری کا جو موسم روایتی طور چار ماہ پر مشتمل ہوا کرتا تھا وہ اب سرینگر اور جنوبی کشمیر میں صرف دو ماہ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے ڈوڈہ خطے کی مڑوہ تحصیل کے مارگی گاؤں میں آگ کی واردات میں دو سو کنبوں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔ اس حوالے سے ڈوڈہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد خان نے بتایا کہ :’مارگی پہاڑی خطہ ہے۔ یہاں تو طویل عرصہ سے برفباری نہیں ہوئی اور شہروں اور قصبوں کے ساتھ مربوط نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے سبھی رہائشی ڈھانچے جنگلی لکڑی کے ہیں جو تیز دھوپ سے بہت زیادہ سوکھ گئے تھے۔ آگ لگی تو آناً فاناً پھیل گئی۔‘ قابل ذکر ہے کہ مارگی گاؤں جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقے کی سرحد پر ہے، جہاں سے شاہراہ کے ذریعہ وہاں ایک گھنٹے میں پہنچا جاسکتا ہے۔ جبکہ ڈوڈہ کے کشتواڑ ضلع سے یہ گاؤں ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پچاس سال قبل کوکر ناگ سے مارگی تک ایک سڑک بھی جاتی تھی جو ڈوگرہ راج کے دوران شاہی شکاریوں نے تعمیر کروائی تھی۔ سرکاری ذرایع کے مطابق اس سڑک کی بحالی کے لیے حکومت کئی منصوبوں پرغور کر رہی ہے۔ ارجمند طالب کے مطابق عالمی حدت کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا، تاہم 'کشمیر کے مختلف خطوں میں ایسی ہی آگ لگی تو اسے بجھانے کا کام پرانی شاہراہوں کو بحال کرنے سے آسان ہوسکتا ہے ۔ مارگی کے لوگ رات بھر چلاتے رہے اور بارہ گھنٹے تک حکومت کو معلوم نہیں تھا کہ لوگ آگ کی زد میں ہیں۔ سڑکیں ہوتیں تو تباہی کا حجم یہ نہیں ہوتا۔' |
اسی بارے میں گلوبل وارمنگ: دلی کا بدلتا موسم 05 June, 2007 | انڈیا گلوبل وارمنگ کے ڈیٹا میں ابہام24 June, 2006 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس الگور کو امن کا نوبل انعام12 October, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||