الگور کو امن کا نوبل انعام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحولیات کے تحفظ کے لیے مہم چلانے والے سابق امریکی نائب صدر البرٹ الگور اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پینل کو مشترکہ طور پر اس سال کا نوبل کا امن انعام دیا گیا ہے۔ نوبل اعزاز کا اعلان جمعہ کو کیا گیا۔ ماحولیات سے متعلق ضروری اقدامات کے بارے میں الگور کی مہم پر نورویجین نوبل کمیٹی نے ایک بیان میں کہا: ’وہ شاید واحد فرد ہیں جنہوں نے ان اقدامات کے متعلق دنیا بھر میں آگاہی پیدا کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے جن پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔‘ اس سال کا نوبل امن انعام الگور کے ساتھ اقوام متحدہ کے بین الحکومتی ماحولیاتی پینل یعنی آئی پی سی سی کو دیا گیا ہے۔ اس پینل میں ایک سو تیس ممالک سے لگ بھگ ڈھائی ہزار سائنسدانوں اور محققین نے شامل تھے۔ اقوام متحدہ کے اس پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انسانی سرگرمیاں گلوبل وارمِنگ یعنی عالمی حدت کی اہم وجہ ہیں۔جبکہ الگور نے ماحولیات کے بارے میں آگاہی کے لیے ایک فلم بنائی جس کا نام ’این انکانوینیئنٹ ٹروتھ‘ (ایک تکلیف دہ سچ) ہے۔ الگور کی اس دستاویزی فلم کو آسکر اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ ماحولیات پر کئی برسوں سے جاری مہم کیوجہ سے الگور کو دنیا کا پہلا ماحولیاتی سیاست دان بھی کہا گیا ہے۔ سابق امریکی نائب صدر اور اقوام متحدہ کے پینل کو نوبل کا یہ انعام دس دسمبر کو ایک خصوصی تقریب میں دیا جائے گا۔ نوبل کمیٹی نے کہا ہے کہ اس انعام کے ذریعے وہ دنیا کی توجہ ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت پر مبذول کرانا چاہتی ہے۔ الگور امریکی صدر بِل کلِنٹن کے نائب صدر تھے۔ وہ سن 2000 کا صدارتی انتخاب جارج بش سے قانونی تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہار گئے تھے۔ امریکی سیاسی حلقوں میں اب بھی امید کی جارہی ہے کہ وہ شاید دوبارہ امریکی صدارت کے امیدوار بنیں لیکن انہوں نے فی الحال اس امکان سے انکار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نوبل کمیٹی کے ماحولیات سے متعلق امور پر ’امن انعام‘ دینے کے فیصلے سے لگتا ہے کہ کمیٹی جنگ اور اسلحوں کے عدم پھیلاؤ پر مبنی امن کی تشریح کو وسیع تر معنی میں سمجھنے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پینل کے انڈین نژاد سربراہ اور ممتاز سائنسدان راجندر پاچوری نے اپنے ادارے کو نوبل پرائز دیئے جانے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔ سڑسٹھ سالہ راجندر پاچوری نے ہندوستان کے دارالحکومت دِلی میں نوبل کمیٹی کے فیصلہ پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ وہ انتہائی خوش ہیں اور انہیں اس بات پر یقین نہیں آ رہا ہے۔ مسٹر پاچوری نے کہا کہ وہ تو فقط ایک علامت ہیں اور اچھی کارکردگی کا تمام کریڈٹ ان کی ادارے اور اس کے ذریعے کی جانے والی کوششوں کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات ر بہت فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اس انعام کے سلسلے میں وہ سابق امریکی نائب صدر جیسی ممتاز شخصیت کے ساتھ شراکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی نائب صدر الگور یقینی طور پر اس انعام کے مستحق ہیں کیونکہ ماحولیاتی مسائل سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ان کی کوششوں کا بہت اثر ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||