’پاکستان کی سرپرستی حاصل تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو برس قبل لندن سے ای میل کے ذریعے ایک ساتھی صحافی اینڈریو وائٹ ہیڈ کی درخواست ملی۔ انہیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو تقریباً ساٹھ برس قبل اس قبائلی لشکر میں شامل رہا ہو جس نے کشمیر پر حملہ کر کے اسے پاکستان کے لیے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کئی ماہ کی بھاگ دوڑ کے بعد قسمت نے یاوری کی اور معلوم ہوا کہ پشاور کے مضافات میں متنی کے علاقے میں ایسا ایک شخص موجود ہے۔ ایک سابق فوجی کے ذریعے اس سے ملاقات کا وقت طے ہوا اور ہم اس کے مکان پہنچے۔ خان شاہ آفریدی سے جب ملاقات ہوئی تو اس کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ وہ اٹھانوے برس کا ہوچکا ہے۔ وہ انیس سو سینتالیس میں اس قبائلی لشکر کا حصہ تھا جس نے بارہمولہ تک پیش قدمی کی اور ایک وسیع علاقے پر قبضہ کیا۔ البتہ بھارتی فوج کی آمد پر انہیں واپس لوٹنا پڑا۔
ساتھی صحافی کو انٹرویو کرکے روانہ کیا اور پھر بات بھول گیا۔ کوئی ڈیڑھ دو برسوں بعد، ایک روز دفتر پہنچا تو میز پر ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو بی بی سی کے سینیر صحافی انڈریو وائٹ ہیڈ کی لکھی کتاب ’اے مشن ان کشمیر’ ملی۔ حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ نوے کی دہائی میں بی بی سی کے بھارت میں نامہ نگار انڈریو وائٹ ہیڈ کی تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب پینگوئن گروپ نے بھارت میں چھاپی ہے جو کہ تقسیم ہند کے بعد ان ابتدائی ایام کی مفصل تاریخ ہے جب قبائلی لشکر نے کشمیر کا رخ کیا تھا۔ انہوں نے حملہ آوروں اور نشانہ بنے والوں، لوٹنے اور لٹنے والوں اور جنگجوؤں اور عام شہریوں کی کہانیاں اکٹھی کرکے انہیں ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی ہے۔ اس نوعیت کی پہلی کوشش میں انڈریو وائٹ ہیڈ نےان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ حملہ آور کون تھے؟ کیا انہیں پاکستان کی سرپرستی حاصل تھی اور کیوں جب وہ سری نگر سے چند میل کی دوری پر تھے تو شہر پر قبضہ نہیں کرسکے؟
ایک تاریخ دان کی طرح اینڈریو وائٹ ہیڈ نے اصل کہانیاں اکٹھی کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ اس کا ثبوت ناصرف خان شاہ آفریدی تھے بلکہ بارہمولہ کے مشنری ہسپتال میں ہلاک کیے جانے والے برطانوی جوڑے کی اولاد کی تلاش میں انہوں نے ایڈنبرا کی ٹیلیفون ڈائریکٹری میں ڈائکس نامی ہر شخص کو خط بھی لکھ ڈالا۔ ہسپتال کی ایک اطالوی نن سِسٹر ایملیا جیسی عینی شاہد سے بھی انہیں اکتوبر انیس سو سینتالیس میں رونما ہونے والے واقعات کی اہم تفصیلات ہاتھ آئیں ہیں۔ چند نادر تصاویر بھی کتاب میں شامل ہیں۔ ایک تصویر میں ایک لمبی داڑھی والے پٹھان کو بارہمولہ میں لوٹ کے سامان کے ساتھ گرفتاری کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ پاکستانی حکام کا انکار اپنی جگہ لیکن شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ لشکر کو حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ پختونوں کو کشمیر میں بھی استعمال کیا گیا اور افغانستان میں بھی۔ چار مسلح اورکزئی قبائلیوں، ماضی کے اخبارات کے عکس اور ڈل جھیل کی تصویر سے مزئین کور والی اس کتاب میں انڈریو وائٹ ہیڈ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک پیچیدہ کہانی چُنی ہے۔ ’ کمشیر کوئی آسان مسئلہ نہیں۔ اسی لیے جب بھی اس مسئلے کا کوئی حل نکلےگا وہ بھی آسان نہیں ہوگا۔‘ یہ یقیناً کشمیر کے تنازعے کی تاریخ سے متعلق پہلی کتاب نہیں۔ کشمیر کی تاریخ کو ہر فریق نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کےمطابق لکھا ہے۔ لیکن ’اے مشن ان کشمیر‘ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینڈریو وائٹ ہیڈ نے اس رحجان کو توڑا ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر:’انصاف کا انتظار‘ 16 November, 2007 | انڈیا کشمیر کی’مدر ٹریسا‘21 November, 2007 | انڈیا ’حالات جلد معمول پر آ جائیں گے‘22 November, 2007 | انڈیا ’ زندگي ایک بیوہ سے بھی بدتر ہے‘ 24 November, 2007 | انڈیا کشمیرمیں جسم فروشی پر کتاب 28 November, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||