BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ زندگي ایک بیوہ سے بھی بدتر ہے‘

بیوائیں
بھارتی زیرانتظام کشمیر میں دوہزار خواتین کے شوہر برسوں سے لاپتہ ہیں
زینب کے شوہر کو مبینہ طور پر بھارتی فوج نے دس برس قبل حراست میں لیا تھا تب سے وہ لاپتہ ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے لیکن زینب آج اپنے شوہر کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میرے بچوں کی قسم، اللہ کی قسم صبح جب بھی اٹھتی ہوں تو لگتا ہے کہ وہ دروازے پر کھڑے ہیں، شام کو جب بھی میں کھانا نکالتی ہوں تو میری نظر دروازے پر ٹکی ہوتی کہ شاید وہ آجائیں۔‘

لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’اے پی ڈی پی‘ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ایسی تقریباً دو ہزار خواتین ہیں جن کے شوہر بھارتی فوج کی حراست میں جانے کے بعد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

زینب جیسی بہت سی خواتین یہ آس لگائے بیٹھی ہیں کہ ان کے شوہر لوٹ آئیں گے لیکن بہت سی خواتین یہ امید چھوڑ چکی ہیں۔ بعض خواتین نے دوبارہ شادی کر لی ہے لیکن بیشتر دوبارہ شادی سے انکار کرتی ہیں۔

 اگر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ میرے شوہر دنیا میں نہیں رہے تو تسلی ہوجاتی لیکن ہمیں تو اندھرے میں رکھا جارہا ہے، ہم سوچتے ہیں کہ شاید وہ زندہ ہوں یہ میرے اور میرے بچوں کے لیے کسی روحانی عذاب سے کم نہیں ہے۔
رفیقہ

شبنم کے شوہر ٹرک ڈرائیور تھے اور دس برس سے لاپتہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں’ میرے ماں باپ نے دوبارہ شادی کے لیے بہت دباؤ ڈالا لیکن میں نے بچوں کا خیال کیا، میں ان کی ماں بھی ہوں اور باپ بھی‘۔ شبنم اپنے شوہر کو یاد کر کے زاروقطار رو پڑتی ہیں۔’میں عبدالرشید کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی تھی لیکن ان بچوں کے سہارے گزرا ہو رہا ہے۔‘

وسطی ضلع بڈگام کی رہنے والی رفیقہ کا کہنا ہے کہ’جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوجائے تو اس کی زندگي ایک بیوہ سے بھی بدتر ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ میرے شوہر دنیا میں نہیں رہے تو تسلی ہوجاتی لیکن ہمیں تو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، ہم سوچتے ہیں کہ شاید وہ زندہ ہوں یہ میرے اور میرے بچوں کے لیے کسی روحانی عذاب سے کم نہیں ہے۔‘

ایسی خواتین حالت اس لیے بھی بد تر ہے کیونکہ کہ وہ اپنے شوہروں کی تلاش میں بے حال ہوچکی ہیں۔ بیشتر خواتین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کی تلاش کے لیے ریاست کے تمام تفتیشی مراکز، فوجی کیمپ اور جیل کا چکر لگاتے لگاتے تھک چکی ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔

شبنم نے بتایا کہ انہوں نے اس تلاشی مہم پر دو لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔’ ہم ایک بہت بڑے مکان میں رہتے تھے جسے بیچ ڈالا لیکن ان تمام کاوشوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا‘۔

رفیقہ کہتی ہیں’میرے پاس کئی لوگ آئے اور کہا کہ میرے شوہر کو دیکھا ہے انہوں نے پیسے مانگے اور میں دیتی رہی، کاش میں نے وہ پیسے اپنے بچوں کے لیے بچائے ہوتے‘۔

یہ خواتین وہ اپنے شوہروں کی تلاش میں بے حال ہوچکی ہیں

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سرکردہ تنظیم’ کولیشن آف سول سوسائٹی‘ کے صدر پرویز امروز کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد میں سے پچاسی فیصد کا تعلق غریب طبقے سے ہے۔’پسماندہ طبقہ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں کا زیادہ شکار ہوتا ہے کیونکہ ان کی آواز نہیں سنی جاتی ہے۔‘

لاپتہ افراد کے لواحقین کی انجمن کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق گم شدہ افراد میں ساٹھ فیصد عام شہری ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین مدت سے ذہنی کشمکش سے میں مبتلا ہیں جنہیں کونسلنگ کی ضرورت ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ان خواتین نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ انصاف کے لیے سپریم کورٹ میں حبس بےجا کے کئی مقدمے دائر کیے گئے ہیں لیکن بھارتی عدالتوں کی سست روی سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

ایسی خواتین ہر ماہ ایک احتجاجی دھرنا دیتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملوں کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے اور اگر ان کے شوہر زندہ نہیں تو انہیں کم از کم مردہ قرار دیا جائے۔ لیکن حکومت نے اب تک ان کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر:شراب کے خلاف مہم
01 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد