’افسوس، کنٹرول لائن نہیں کھلی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں منقسم خاندانوں نے کنٹرول لائن کھلنے میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے کنٹرول لائن کے اس پار پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے زلزلہ زدگان کے لیے دو کیمپ قائم کیے ہیں۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر کیمپ قائم ہوگئے ہیں مگر وہاں ابھی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔ پاکستان نے کنٹرول لائن پر پانچ مقامات کو کھولنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن اسلام آباد اور دلی دونوں ہی نے ابھی تک کنٹرول لائن کے آرپار کشمیریوں کے سفر کی تفصیلات طے نہیں کیں۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے اعلیٰ اہلکار ہفتے کے روز ملاقات کر رہے ہیں۔ دریں اثناء موسمِ سرما سے قبل پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بچ جانے والے آٹھ لاکھ افراد کی امداد کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے لگ بھگ ترپن ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار چار سو کے قریب ہے۔ کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگ اپنے اعزہ اور اقرباء کی خیریت کی اطلاع کے لیے آٹھ اکتوبر ہی سے پریشان ہیں۔ پونچھ کے مقام گلپور میں جہاں بھارت نے متاثرہ افراد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیا ہے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کنٹرول لائن کے پار سے اپنے اقرباء کے آنے کے انتظار میں ہیں۔ منگل کو محمد تاج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’انہیں یہاں آج آنا تھا لیکن اب بھارتی فوج نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ ہو گیا ہے۔‘ خدیجہ بیگم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بچے بے حد خوش تھے کہ اپنے چچا اور دادا دادی کو دیکھ سکیں گے مگر ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ میری دعا ہے کہ سڑکیں کھل جائیں۔‘ | اسی بارے میں پار سے مدد جلد پہنچ سکتی ہے22 October, 2005 | پاکستان آئندہ دو ہفتے بہت اہم ہیں: مشرف21 October, 2005 | پاکستان ’فوجی پرچیاں بانٹ رہے ہیں‘22 October, 2005 | پاکستان ’سوچیے اور راہ نکالیے‘21 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||