جنسی سکینڈل: بند فائل کُھل گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی ایک عدالت نے گزشتہ سال کے جنسی سکینڈل کے سلسلے میں مزید ایک سینئر وزیر، دو سابق وزراء اور ممبران اسمبلی، اعلیٰ سِول اور پولیس افسروں کے خلاف فوری تفتیش کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس طرح تقریباً ایک سال دبی رہنے کے بعد جنسی سکینڈل کی فائل ایک بار پھر کُھل گئی ہے اور کئی وزراء اور افسروں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ کشمیر جنسی سکینڈل کی تفتیش کرنے والے حکومت ہند کے مرکزی ادارے سی بی آئی نے دو وزراء ، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے افسران و دیگر ملزمان کی گرفتاری کے بعد عدالت کو بتایا تھا کہ کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں ’مناسب ثبوت‘ نہیں مل سکے جنکے نام متاثرہ لڑکیوں نے لیے تھے۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے بعد عدالت نے سیکس سکینڈل پرفیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ بعد میں وکلاء کی مقامی انجمن بار ایسوسی ایشن نے رِٹ دائر کی کہ تمام ملزمان کے بارے میں ثبوت و شواہد موجود تھے۔ اس رِٹ کی سماعت پیر سے عدالت عالیہ کے ڈویژن بینچ نے کی اور دو سو دس صفحات پر مشتمل حتمی فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں عدالت نےسی بی آئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جنسی استحصال کی شکار لڑکیوں کے بیانات کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ملزمان کی فہرست کا ازسرنو جائزہ لے۔ سی بی آئی کو مزید ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاست کے وزیرٹرانسپورٹ حکیم محمد یٰسین، حکمراں اتحاد کی اہم جماعت پی ڈی پی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر غلام حسن خان اور کانگریس کے سابق وزیر یوگیش ساہنی کے علاوہ جموں کشمیر بینک کے سابق چئرمین محمد یوسف خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس راجندر تِکو، ایک ڈی آئی جی، دو ایس ایس پی اور بعض اعلیٰ افسران اور بارسوخ شخصیات سے متعلق ’تمام ریکارڑ‘ چھہ ہفتوں کے اندر اندر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرے۔ عدالتی فیصلے کے صفحہ نمبر 198 پر ڈویژن بینچ نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ’دیانت دار‘ افسروں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے جو منشیات اور جنسی استحصال کے واقعات کی ازسرنو تفتیش کرکے عدالت کو آگاہ کرے۔ ڈی جی پی کو متاثرہ لڑکیوں سمیت ان تمام ملزمان کو سکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے جن کا نام سیکس سکینڈل میں آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی سکینڈل سے متعلق پچھلے سال سے اب تک چار ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ تشکیل پاچکا ہے اور اس سارے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہی عدالت زیریں (چیف جوڈیشل مجسٹریٹ) کوئی فیصلہ کر پائے گی۔ ایک معروف وکیل نے بی بی سی کو بتایا ’چونکہ اس میں ایک بار پھر حکومتی وزیر کا نام آیا ہے، لہٰذا حکومت پھر سے ایک اخلاقی بحران کا شکار ہوگئی ہے۔‘ واضح رہے کہ فیصلے میں ملزم ٹھہرائے گئے حکیم محمد یٰسین فی الوقت عمرہ کی غرض سے سعودی عرب میں ہیں۔ تاہم پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا ہے کہ انہوں نے سکینڈل میں مذکورہ اپنے ایک ممبر اسمبلی غلام حسن خان کو اسمبلی کی رکنیت سے تفتیش مکمل ہونے تک معطل کر دیا ہے۔ پچھلے سال کئی ماہ تک جنسی سکینڈل کے حوالے سے کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے اور احتجاج ہوتے رہے ہیں۔اس حوالے سے خاتوں رہنما آسیہ انداربی نے باقاعدہ طور ایک عوامی تحریک شروع کی۔ پولیس ریکارڑ کے مطابق تین سال قبل معصوم لڑکیوں کو نوکریوں کا جھانسا دیکر ان کی عُریاں فلمیں بنائی جاتی تھیں اور انہیں وزرا، سکیورٹی فورسز کے افسران اور بااثر افراد کو جنسی تفریح فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے پولیس نے گزشتہ سال سکینڈل کی سرغنہ سبینہ نامی ایک خاتون کو گرفتار کرلیا تھا۔ دیگر لڑکیوں کو پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی نشاندہی اور عدالت میں دیے گئے بیانات پر دو وزراء، پولیس کے ایک ڈی ایس پی اور نیم فوجی ادارے ’بی ایس ایف‘ کے ڈی آئی جی کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن انہیں پچھلے ماہ طویل عدالتی کاروائی کے بعد ضمانت پر رہائی مل گئی۔ |
اسی بارے میں سیکس سکینڈل: سابق وزیرگرفتار 20 June, 2006 | انڈیا سیکس ملزمان کو رمضان رعایت13 October, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی19 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: والدین پریشان15 May, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||