سیکس ملزمان کو رمضان رعایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں چندی گڑھ کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ کشمیر سیکس سکینڈل میں ملوث ملزمان کو ماہ رمضان کے بقیہ دنوں کے لیئے سری نگر لیجائے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آجکل چندی گڑھ میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے والے ان ملزمان پر، جن میں سینئر سیاستدان، سرکاری افسران کے علاوہ کچھ اور بااثر افراد بھی شامل ہیں، الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر نوجوان کشمیری لڑکیوں کو طوائفیں بننے اور جنسی فلموں میں کام کرنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ عدالت نے مذکورہ رعایت ملزمان کی اس مشترکہ درخواست کے جواب میں دی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ انہیں اسلامی مقدس مہینے کے بقیہ دن اور عید اپنے گھرانوں اور دوستوں کے ساتھ گزارنے کی اجازت دی جائے۔ سری نگر جانے کی اجازت چاہنے والے تیرہ میں سے نو ملزمان کو عارضی طور پر سری نگر جیل میں منتقل کیا جائے گا اور پھر عید کے بعد تین نومبر کو مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر واپس چندی گڑھ لایا جائے گا۔ | اسی بارے میں انڈین میڈیا: سیکس، منشیات پر مرکوز20 July, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: سابق وزیرگرفتار 20 June, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی19 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: والدین پریشان15 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||