BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:’انصاف کا انتظار‘

عائشہ
عائشہ ا آٹھ سالہ بیٹی شبنم کے ہمراہ ایک میجر کی ہوس کا شکار بنی تھی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ضلع کپوارہ کے ایک دوردراز گاؤں بدرا پائین کی رہنےوالی سینتیس سالہ عائشہ تین سال قبل اپنی آٹھ سالہ بیٹی شبنم کے ہمراہ مقامی فوجی یونٹ کے ایک میجر کی ہوس کا شکار ہوگئی۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکور افسر کو کورٹ مارشل کے بعد نوکری سے برطرف کیا گیا ہے، تاہم عائشہ کا اصرار ہے کہ میجر رحمٰن کی نوکری سے برطرفی ’مکمل انصاف ‘ نہیں ہے۔

عائشہ کے خاوند عبدالرشید کا کہنا ہے کہ’ اُلٹا ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے کیونکہ میں نے فوج کی طرف سے رشوت کے عوض چپ ہونے کی بات اخباروں میں عیاں کردی۔ ہمارے گھر میں چھاپے ڈالے جارہے ہیں، اب تو ہم ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں‘۔

دو کمروں کے ٹوٹے پھوٹے مکان میں رہائش پذیر رشید کا کہنا ہے کہ ’فوج ڈراتی ہے اور حکومت دھوکہ دیتی ہے۔نوکری دی اور بعد میں کہا وہ نوکری صرف گیارہ ماہ کے لیے تھی۔ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑا جاتا تو کافی تھا‘۔

عائشہ اور شبنم جیسی مزید کتنی خواتین ہیں جو فوج کے ہاتھوں جنسی استحصال سے گزری ہیں اور ان جرائم میں ملوث کتنےفوجی اہلکاروں کو سزا ملی ہے، اس بارے میں عالمی ادارہ ایشیاواچ کے مطابق کوئی معتبر اعداد وشمار دستیاب نہیں ہے۔

رشید
عائشہ کے خاوند عبدالرشید کا کہنا ہے کہ فوج ڈراتی ہے

خواتین کی علیٰحدگی پسند جماعت، مسلم خواتین مرکز کی سربراہ یٰسمین راجہ کے مطابق اخباروں میں پچھلے سترہ سال میں فوج اور فورسز کے ہاتھوں ریپ کے تین سو بیس واقعات رپورٹ کیے گیے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے اتحاد جموں کشمیر کولیشن آف سِول سوسائٹیز (جے کے سی سی ایس) کے سیکریٹری خُرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ادارہ کشمیر میں ہونے والے ریپ کے واقعات کا جامع اعدادوشمار حاصل کرنے کے لیے پوری ریاست میں ایک سروے کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ریپ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو مناسب سزا نہ مل پانے کی وجہ کے بارے میں معروف وکیل اورجے کے سی سی ایس سربراہ پرویز امروز کہتے ہیں کہ ’ کورٹ مارشل میں فوجی اہلکاروں اور افسروں کے تئیں نرمی برتی جاتی ہے ، اور جرائم کی تفتیش سے متعلق عوام کو بے خبر رکھا جاتا ہے‘۔

مسٹر امروز کے مطابق سینکڑوں معاملوں میں سے اب تک صرف کینیڈا کی رہنے والی ایک خاتون سیاح کے جنسی استحصال سے متعلق تفتیش اور ملوث اہلکار کو دی گئی سزا کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔

مسٹر امروز کا مزید کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں اُنیس سو نوے سے نافذ مخصوص قوانین کی وجہ سے بھی ریپ کی شکار خواتین کو انصاف ملنا مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ کسی فوجی کی عدالتی پیشی کے لیے ہندوستانی وزارت دفاع سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

سن دو ہزارمیں بھی بانہال قصبہ کی نوشب بیگم اور اس کی بیٹی کو انڈین آرمی کے ایک کیپٹین رویندر سنگھ تواتیا نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ فوجی کورٹ مارشل میں اسے سزا تو ہوئی لیکن جموں ہائی کورٹ نے سے ایک رِٹ کی سماعت کے دوران باعزت بری کردیا۔

اسی سال شمالی ضلع بانڈی پورہ میں دو فوجی اہلکاروں نے جب مقامی خواتین کے ساتھ دست درازی کی تو پورے قصبہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

ریپ کی شکایات اکثر ’جھوٹ‘ پر مبنی ہوتی ہیں۔پچھلے سترہ سال کے دوران ریپ اور دیگر زیادتیوں سے متعلق تیرہ سو شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے صرف تیس کو صحیح پاکر ستّرملوثین کے خلاف کاروائی کی گئی۔
فوج کے ترجمان،کرنل انل کمار ماتھر

بانڈی پورہ کے سماجی کارکن اور کالم نگار عازم جان کہتے ہیں’دونوں اہلکاروں کا کورٹ مارشل تو ہوا لیکن لوگوں کو نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیا سزا ملی۔ اور پھر جن لوگوں نے جنسی استحصال کے خلاف مظاہرے کئے ان میں سے چوالیس نوجوانوں کی فہرست مرتب کرکے انہیں ایک ایک کرکے گرفتار کیا جارہا ہے‘۔

فوجی ترجمان کرنل انِل کمار ماتُھر کا دعویٰ ہے کہ ریپ کی شکایات اکثر ’جھوٹ‘ پر مبنی ہوتی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پچھلے سترہ سال کے دوران ریپ اور دیگر زیادتیوں سے متعلق تیرہ سو شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے صرف تیس کو صحیح پاکر ستّرملوثین کے خلاف کاروائی کی گئی۔

اکثر متاثرین مالی معاوضہ پر ملوثین کے خلاف واضح اور قرار واقعی سزا کو ترجیح دیتےہیں۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’اُس میجر کو نوکری سے نکالو یا مجھے لاکھوں روپے دے دو، کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا یہ انصاف ہے؟ میں پچھلی چار عیدوں سے نماز کے لیے عید گاہ نہیں گئی ہوں۔میرے بچے بھی باہر جانے سے گھبراتے ہیں۔مجھے انصاف چاہیے‘۔

اسی بارے میں
کشمیر میں زبردست احتجاج
08 November, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد