فوجی مداخلت کی سالگرہ پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مداخلت کی سالگرہ پر حکومت اور علیحدگی پسندوں نے الگ الگ تقریبات کا اہتمام کیا۔ ستائیس اکتوبر کو ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انیس سو سینتالیس میں انڈین افواج کی آمد کے ساٹھ سال پورے ہونے پر وادی میں علیحدگی پسندگروپوں کی کال پر ہڑتال کی گئی جبکہ بعض مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس دوران انڈیا کے وزیردفاع اے کے انتھونی نے سرینگر میں سکیورٹی ایجنسیوں کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔انسانی حقوق کےلیے سرگرم مختلف انجمنوں کے اتحاد، کولیشن آف سِول سوسائٹیز، نے ضلعی سطح پر پچھلے اٹھارہ سالہ پرتشدد دور میں ہوئی ہلاکتوں کے سروے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ واضح رہے کہ اگست اُنیس سو سینتالیس میں برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد مسلم اکثریتی جموں کشمیر میں اسوقت کے برطانیہ نواز مہاراجہ کے خلاف مسلح بغاوت شروع ہوگئی جسے کچلنے کے لیے ہندوستانی رہنماؤں نے مہاراجہ کو الحاق کی پیشکش کی اور کشمیر میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ
علیحدگی پسندوں کے سخت گیر اور اعتدال پسند گروپوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں انڈین افواج کی موجودگی کے خلاف علامتی دھرنے دیئے۔ ہڑتال کے دوران دفاتر میں بہت کم حاضری رہی جبکہ تعلیمی ، کاروباری اور دیگر ادارے بند رہے۔ تاہم ٹرانسپورٹ پر ہڑتال کا اثر جزوی رہا۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وزیردفاع اے کے انتھونی بھی ستائیس اکتوبر کے ہی روز خصوصی دورے پر وادی پہنچے۔ یہاں انہوں نے انسداد تشدد کے لیے فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اتحاد یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز کے اجلاس کی صدارت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ مسٹر انتھونی نے کنٹرول لائن کی اگلی چوکیوں کا فضائی سروے کرنے کے علاوہ ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی دستوں کا بھی معائنہ کیا۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سِول سوسائٹیز یا سی سی ایس کشمیر میں پچھلے اٹھارہ سال میں ہوئی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کے لیے ضلع وار سروے کا افتتاح کیا۔ اس حوالے سے سی سی ایس نے کنٹرول لائن سے ملحقہ شمالی ضلع بارہ مولہ میں ہوئی ہلاکتوں پر مشتمل ایک سروے رپورٹ کا اجراء کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اُنیس سو نواسی سے دو ہزار چھ تک پانچ ہزار ایک سو چھ افراد مارے گئے جن میں سروے کے مطابق چار سو آٹھ افراد کو فورسز اور فوج کی حراست میں ہلاک کیا گیا جبکہ تین سو تینتالیس افراد کو جبری گمشدگی کا شکار قرار دیا گیا۔ سی سی ایس کے سربراہ پرویز امروز نے بی بی سی کو بتایا:’یہ سروے تین سال میں مکمل کیا گیا‘۔امروز کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں وہ سرینگر ضلع میں ہوئی ہلاکتوں کا سروے کریں گے۔ | اسی بارے میں کشمیر: مسجد کا فوجی محاصرہ29 September, 2007 | انڈیا آٹھ فوجی،سات جنگجوہلاک11 October, 2007 | انڈیا حراستی قتل پر پرتشدد مظاہرے20 October, 2007 | انڈیا کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک03 October, 2007 | انڈیا ’کشمیر: سکولوں سے فوجی نکالیں‘21 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||