کشمیرمیں جسم فروشی پر کتاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تہلکہ مچانے والے جنسی سکینڈل کی سرغنہ سبینہ کہتی ہیں کہ الزامات سے بری ہونے پر وہ وادی میں جسم فروشی کے سنسنی خیز پہلوؤں کو اجاگر کریں گی۔ سبینہ اس کے لیے ایک خود نوشت سوانح کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔ جنسی سکینڈل کا واقعہ سنہ دو ہزار چھ کا ہے جس میں پولیس نے سبینہ کو’ ملزم نمبر ایک‘ کے طور متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم نے سرینگر کے حبہ کدل میں واقع ان کے گھر کو تاراج کردیا تھا۔ پولیس نے سبینہ کے علاوہ دو سابق وزراء ،قانون دان، ایک اعلیٰ سرکاری افسر اور بی ایس ایف کے ایک ڈی آئی جی کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد پینتیس سالہ سبینہ سرینگر اور پنجاب کی جیلوں میں قید رہیں۔ گزشتہ ماہ چنڈی گڑھ کی ایک عدالت نےانہیں ضمانت پر رہا کیا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران سبینہ نے کہا کہ جموں کشمیر پولیس اور مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی ’اصل مجرموں‘ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔’یہ دراصل سیاسی جنگ ہے جس میں میرا استعمال کیا گیا۔‘
اب سبینہ عدالتی سماعت کے انتظار میں ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ انہیں الزامات سے بری کردیا جائےگا۔’ بری ہوجانے کے بعد میں جسم فروشی سے متعلق سنسنی خیز پہلوؤں کو منظر عام پر لاؤں گی، مجھے پولیس اور میڈیا نے کِنگ پِن (سرغنہ) کے طور ہائی لائٹ کیا اور میری تصاویر شائع کرتے رہے، کسی نے یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر اس خطرناک کھیل کا اصل کردار کون ہے، یہ تو ایک سیاسی جنگ تھی جس میں مجھے استعمال کیا گیا۔میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوں لیکن میں اس سارے کھیل کا خلاصہ کتاب میں کروں گی۔‘ سکینڈل سے متعلق سبینہ کہتی ہیں کہ ان پر متواتر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ سیاستدانوں کی ایک لمبی فہرست کو جنسی سکینڈل میں ملوث بتائیں۔ سبینہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد اصل افغان دارالحکومت کابل سے تعلق رکھتے ہیں جو بچپن میں اپنے والد یعنی سبینہ کے دادا کے ساتھ کشمیر کے شمالی قصبہ اوڑی آئے تھے اور یہیں پر سکونت اختیار کرلی تھی۔’مجھے تو میرے گھر والوں نے بھی چھوڑ دیاہے۔ سبینہ کے مطابق دس سال قبل انہوں نے اپنے خاوند کے ہمراہ ایک مہاجر پنڈت کا مکان خریدنے کے لئے ایک کشمیری دلال کو چار لاکھ روپے دئے لیکن دلال نے مکان کسی اور کو فروخت کردیا۔ سبینہ کہتی ہیں’وہ دلال اخوانی (سرکار نواز ملی ٹینٹ) تھااور اس نے روپے ہڑپ کرلیے، جب میں نے پولیس سے فریاد کی تو وہاں میرا استحصال ہوا۔ میری دنیا ہی لُٹ گئی، مجھے حامد نے طلاق دے دی اور میں اکیلی پڑگئی۔ پھر روزگار کےلیے کڑھائی کا سینٹر شروع کیا لیکن وہاں بھی میرے ساتھ دھوکہ ہوا۔‘ تاہم سبینہ مانتی ہیں کہ جن لڑکیوں کو انہوں نے اپنے گھر میں جاری سلائی سینٹر میں تربیت دینا شروع کیا تھا وہ اپنے خفیہ آشناؤں کو وہاں بلانے کے لئے اصرار کرتی رہتی تھیں۔’جنسی سکینڈل میں ثابت شدہ مجرم لڑکیوں کو قیمتی اثاثے دئے گئے ہیں جبکہ میرا بیٹا یتم خانہ میں ہے اور مجھے جیل بھیج دیا گیا۔‘ سبینہ کوئی مثال دئے بغیر کہتی ہیں کہ پولیس اور سرکاری محکموں میں لڑکیوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے۔’پولیس میں ڈیڑھ ہزار روپے ماہوار تنخواہ کے عوض خاتون ایس پی اوز کی جو فورس بنائی گئی ہے اس میں شامل خواتین کاجنسی استحصال ہوتا ہے۔‘
سبینہ کہتی ہیں کہ جنسی سکینڈل کے خلاف تحریک چھیڑنے والی خاتون لیڈر آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی ملاقات اُس وقت ہوئی جب آسیہ سرینگر کے سینٹرل جیل میں قید اپنے خاوند محمد قاسم سے ملاقات کے لئے آئی تھیں۔ ’ آسیہ اندرابی نیک عورت ہیں، میں نے جب اپنی کہانی سنائی تو انہوں نے میری ڈھارس بندھائی اور میری مدد کی ۔‘ سبینہ کا ارادہ ہے کہ الزامات سے بری ہوجانے پر آسیہ کی طرح خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم رہیں گی۔’میں ایک خواتین سیل بناؤں گی جہاں ہم لڑکیوں کو استحصال سے بچنے کی ترغیب دینگے۔‘ سبینہ کو سماج سے شکایت بھی ہے۔’ معاشرہ گمراہ ہوگیا ہے، بے حیائی پھیل رہی ہے لیکن اس میں سماج کے سبھی طبقے ملوث ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ جب امیروں اور سرمایہ داروں کی بہو بیٹیاں ایسا کرتی ہیں تو اسے ہائی سوسائٹی کا تقاضہ سمجھ کر برداشت کیا جاتا ہے، لیکن جب غریب لڑکی کا استحصال ہوتا ہے تو اسے مزے لے لے کر اُچھالا جاتا ہے۔‘ | اسی بارے میں جنسی سکینڈل: بند فائل کُھل گئی08 October, 2007 | انڈیا سیکس ملزمان کو رمضان رعایت13 October, 2006 | انڈیا سکینڈل مقدمات، کشمیر سے منتقل04 September, 2006 | انڈیا ’بنیاد پرست کہلائے جانے سے نہیں ڈرتی‘30 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی19 May, 2006 | انڈیا سرینگر میں کیبل ٹی وی دوبارہ بند12 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||