’حالات جلد معمول پر آ جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات ہندوستانی افواج کی پندرہویں کور کے کمانڈر جنرل اے ایس سیکھون نے کہا ہے کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کو ’اطمینان بخش‘حد تک قابو کرلیا گیا ہے اور ’بہت جلد ہم نارملسی بحال کر دیں گے۔‘ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ فوجی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’غیر مقامی جنگجوؤں کو سرینڈر کی پیشکش کی بجائے براہ راست ہلاک کیا جائے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ سے مسلح شدت پسندوں کی دراندازی میں کوئی تشویشناک اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ’حالات ابھی سو فی صد نارمل نہیں ہوئے ہیں‘۔ پریس کانفرنس کے دوران جنرل سیکھون نے اعلان کیا کہ کشمیر میں جو غیر کشمیری دہشت گرد وارد ہوگا اس کو ہلاک کیا جائے گا کیونکہ غیر مقامی دہشت گردوں کو سرینڈر (خود سپردگی ) کی پیشکش نہیں کی جائے گی۔ ’ان کا یہاں کوئی رول نہیں ہے‘۔ جنرل کے بقول فوج کو ملی ٹینٹوں کے خلاف واضح کامیابی ملی ہے ’جسکے لئے سِول اور فوجی خفیہ ادارے مبارک بار کے مستحق ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا ’امسال اگست سے اب تک ایک سو چالیس دہشت گرد مارے گئے جن میں سے پچانوے کو کنٹرول لائن پر دراندازی کی کوششوں کےد وران ہلاک کیا گیا‘۔
جنرل سیکھون کے مطابق گو کہ امسال پچھلے سال کے مقابلے کنٹرول لائن پر دراندازی کی زیادہ کوششیں ہوئیں لیکن دراندازی کے کامیاب واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ فوجی انخلا کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہند کی وزارت داخلہ کی طرف سے انہیں تعلیمی اور طبی اداروں سے فوج نکالنے کے احکامات ملے تھے جن پر عمل کیا جاچکا ہے۔ واضح رہے کہ مقامی سطح پر شدید سیاسی مطالبات کے باوجود گزشتہ روز ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے فوجی انخلا کو یہ کہہ کر خارج ازامکان قرار دیا تھا کہ اس سے بچے کچھے دہشت گردوں کو ری گروپنگ ( تنظیم نو )کا موقعہ ملے گا۔ پچھلے دنوں بعض ہندوستانی اخبارات میں تبصرے شائع ہوئے جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ پاکستان میں ایمرجینسی کے دوران وہاں مقیم جنگجو کشمیر میں دراندازی کرینگے۔ اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال میں جنرل سیکھون نے بتایا کہ، ’پاکستان کے اندرونی حالات کا کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے‘۔ پریس کانفرنس کے دوران اُن چھہ کشمیری جنگجوؤں کو پیش کیا گیا جن کے بارے میں جنرل سیکھون نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دہشتگردی سے تنگ آکر فوج کے سامنے سرینڈر کرلیا۔ ان میں جموں صوبے کے کشتواڑ ضلع سے تعلق رکھنے والے محمد عبداللہ کھٹانہ کو حرکت جہاد اسلامی نامی مسلح گروپ کے ڈپٹی دویژنل کمانڈر کے بطور متعارف کیا گیا۔ مذکور ’کمانڈر‘نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا ’ملی ٹینسی میں تو کچھ نہیں رہا اس لیے ہم نے فوج کے سامنے سرینڈر کیا‘۔ | اسی بارے میں فوج کو عمارتیں چھوڑنے کا حکم29 October, 2007 | انڈیا حراستی قتل پر پرتشدد مظاہرے20 October, 2007 | انڈیا جنگجو کمانڈر گارڈ سمیت ہلاک18 October, 2007 | انڈیا کشمیر: جنگ بندی اعلان اور ممکنہ ردعمل09 October, 2007 | انڈیا پاک فوج کا بھارتی فوج پر الزام25 August, 2006 | صفحۂ اول کشمیر: بھارتی فوج کی تعداد کا معمہ02 August, 2006 | صفحۂ اول سیاچن سے فوجیں ہٹانے کی حمایت29 May, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||