کشمیر: 20 سال بعد دسہرہ کا تہوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بیس سال بعد کشمیری ہندؤوں نے رام نومی کے تہوار پر ہندو عقیدت کے مطابق باطل کرداروں راون اور اس کے ساتھیوں کے پتلے جلائے۔ یہ تہوار ہندوستان بھر میں راون کے خلاف ہندو بھگوان رام کی فتح کے طور پر منایا جاتا ہے اور کشمیر میں مسلح شورش شروع ہونے سے قبل یہ تہوار کشمیری پنڈتوں اور اکثریتی مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ کا سالانہ مظاہرہ ہوا کرتا تھا۔ سرینگر میں یہ روایت اتوار کو کشمیری سنگھرش سمیتی نامی ایک مقامی پنڈت گروپ نے بیس سال بعد دوبارہ زندہ کردی۔ سرینگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ’دسہرہ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ہندو تاریخ کی دیگر باطل شخصیات کے طویل القامت پتلے جلائے گئے۔ پتلوں کے اندر پٹاخے رکھے گئے تھے جن کی آواز سے آس پاس کی بستیاں گونج اُٹھیں۔
سمیتی کے سربراہ سنجے تِکو نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا: ’کشمیری پنڈت اپنے مادرِ وطن کو کیسے بھولیں گے۔ آج دسہرہ کی جو تقریب یہاں ہوئی یہ ان ہی جذبات کا اظہار ہے‘۔ اس موقع پر مقامی مسلمانوں کے علاوہ علیٰحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’کشمیری پنڈت تو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ کشمیر ان کے بغیر ادھورا ہے‘۔ دسہرہ کے موقع پر سٹیڈیم کے ارد گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاہم تقریب پرامن طور پر اختتام کوپہنچی۔ کئی سیاسی اور سماجی حلقوں نے بیس سال بعد دسہرہ کی روایت کے احیاء پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی پنڈت شہری دیپک ککرو نے بتایا: ’مسئلہ کشمیر بے شک ایک تاریخی اور سیاسی مسئلہ ہے لیکن اس میں مذہبی فرقوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آج دسہرہ کا انعقاد ہوا ہے جو اچھا شگون ہے اور امید ہے کہ آنے والے دن امن اور سکون کا پیغام لائیں گے‘۔ | اسی بارے میں گنگا میں لاکھوں ہندوؤں کا اسنان 19 January, 2007 | انڈیا کشمیری پنڈت مظفر آباد جائیں گے16 August, 2005 | انڈیا ’جنماشٹمی‘ پر سیاسی رنگ 16 August, 2006 | انڈیا انڈیا: بھگوان کرشن کا ’جنم دن‘04 September, 2007 | انڈیا الہ آباد میں کمبھ میلے کا آغاز03 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||