گنگا میں لاکھوں ہندوؤں کا اسنان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں جاری کمبھ میلے کے سب سے اہم ’اسنان‘ مونی اماوسیہ کے موقع پر لاکھوں ہندو عقیدت مند اور ناگہ سادھو گنگا جمنا اور تصوراتی سرسوتی دریاؤں کے سنگم پر اسنان (نہان ) کر رہے ہیں۔ ویسے تو عقیدت مند نصف شب کے بعد سے ہی اسنان کی شروعات کر چکے ہیں لیکن میلے میں خاص توجہ کا مرکز ناگہ سادھوؤں نے سورج کے نکلنے سے کچھ دیر قبل تقریباً سوا چھ بجے اپنا اسنان شروع کیا۔ سب سے پہلے ’مہانروانی اکھاڑے‘ کا جلوس بینڈ باجے اور پرچموں کے ساتھ آیا جس میں اہم سنت ٹریکٹروں میں خصوصی طور سے بنائے گئے رتھوں پر سوار تھے۔ ان کے سروں پر چھتریاں اور مذہبی پرچم لگے ہوئے تھے۔ جلوس کے ساتھ مختلف اکھاڑوں کے ملکی اور غیر ملکی بھگت بھی وہاں موجود تھے۔ تقریباً دو کلومیٹر لمبے راستے پر لوگ عقیدت میں اپنا سر جھکائے ہوئے تھے اور سادھوؤں کو ’پرنام‘ کر رہے تھے یعنی ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہوئے تھے۔ ننگے ناگہ سادھو ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے دوڑ کر گنگا میں کود گئے۔ اس منظر کو لاکھوں عقیدت مند دیکھ رہے تھے جسے رپورٹ کرنے کے لیے پوری دنیا سے صحافی، ادیب ، فنکار اور فوٹو گرافر یہاں موجود ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ناگہ سادھوں کے برتاؤ میں یہ تبدیلی نظر آئی کہ اب وہ کیمرے کو دیکھ کر ناراض نہیں ہوتے بلکہ خوشی سے فوٹو کھچواتے ہیں اور مختلف کرتبوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اس موقع پر آئے ہوئے عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ نصف کمبھ کے موقع پر اسان کرنے سے دل اور جسم کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی یقین ہے کہ گنگاجی (دریا) میں اسنان کرنے سے مرنے اور جینے کے جھنجھٹ سے(موکش) نجات مل جاتی ہے۔ یہاں امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی آئے تھے جنہوں نے عیسائی مذہب بدل کر ہندو مذہب اختیار کر لیا ہےاور وہ اپنا نام بھی بدل چکے ہیں۔ ان لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ گنگا اسنان میں کچھ ایسا جادو ہے جس سے روحانی سکون ملتا ہے۔ لیکن جب ان سے گنگا دریا کی آلودگي کے بارے میں پوچھا گیا تو ان لوگوں کا کہنا تھا کہ دریا کی صفائی کے لیے کام کرنے کی تو ضروت ہے لیکن اسنان کے دوران آلودگی غائب ہو جاتی ہے اور گنگا کے پانی کا جادوئی اثر دماغ پر چھایا رہتا ہے۔ شاہی اسنان تیسرے پہر تک جاری رہے گا جبکہ عام مسافروں کا اسناس شام گئے تک جاری رہے گا۔ میلے میں کھٹکنے والی ایک بات یہ نظر آتی ہے کہ جہاں لاکھوں عقیدت مند اور ڈیوٹی پر تیعنات پولیس اور نیم فوجی دستوں کے جوان میلے میں میلوں دوری پیدل طے کر رہے ہیں وہیں ججوں کی گاڑیاں لال بتّی جلائے ہوئے ہجوم کو چیرتی ہوئی گھوم رہی ہیں۔ اور کسی حادثہ کے اندیشے کے پیش نظر وی آئی پی افراد اور موٹر گاڑیوں کو میلے کے علاقے میں جانے پر پابندی عائد ہے۔ | اسی بارے میں گنگاجمنا سنگم پرلاکھوں کا اجتماع 15 January, 2007 | انڈیا کنبھ میلے کے لیے کارخانے بند15 January, 2007 | انڈیا کنبھ سے برطانوی خاتون کا لگاؤ17 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||