گنگاجمنا سنگم پرلاکھوں کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمالی شہر الہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر لاکھوں ہندو عقیدت مندوں نے پیر کی صبح ٹھنڈے پانی میں ’اشنان‘ (غسل) کیا۔ ہندوں کا عقیدہ ہے کہ مکرسنکرانتی کے وقت سنگم پر غسل کرنے سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ کنبھ کا میلہ ہے بارہ برس بعد لگتا ہے اور اس بار یہ چھ برس بعد ہورہا ہے اس لیے اسےاردھ کنبھ یعنی نصف کنبھ کا میلہ کہا جا رہا ہے۔ میلہ تین دریاؤں گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر ہو رہا ہے۔ سرسوتی ایک تصوارتی دریا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس سنگم پرگنگا اور جمنا کے ساتھ ملتا ہے۔ ادھر ریاستی حکومت نے اسی میلے کے پیش نظر اسّی صنعتی کارخانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حکام نے یہ فیصلہ اس ليے کیا ہے تاکہ اردھ کمبھ میلے کے دوارن عقیدت مندوں کے لیے صاف نہانے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔ کارخانون کا گندا پانی دریائےگنگا میں گرتا ہے جس کے سبب اس کا پانی آلودہ ہوچکا ہے۔ کارخانوں کو اردھ کمبھ میلے کے آخری دن یعنی سولہ فروری تک بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اترپردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کے سیکریڑی سی ایس بھٹ نے بی بی سی کو بتایا’ کانپور اور انّناؤ میں واقع چمڑے کے رنگنے کے ستر کارخانے بند کر دیے گئے ہيں اور ساتھ ہی مغربی اضلاع میرٹھ اور مظفر نگر کے دس کاغذ ملوں اور شراب کے کارخانے کو بھی بند کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔‘ ان کاکہنا تھا’ کارخانوں میں گنگا کے علاوہ گندے پانی کے نکلنے کا کوئی متبادل نظام نہیں ہے اس لیے پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔‘
صنعتی کار خانوں سے نکلنے والے رنگین گندے پانی کے سبب گنگا کا پانی لال رنگ کا ہو گیا ہے ۔اس کی وجہ سے ہندو زائرین کو اپنے مذہبی فریضہ اشنان (غسل) کرنے میں پریشانی کا سامنا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق گنگا کی اوپری سطح پر واقع ڈیم سے تازہ اور صاف پانی بھی گنگا میں چھوڑ گیا ہے۔ میلے کے چیف منتظم ار این ترپاٹھی نے بتایا’ اوپری سطح سے صاف پانی چھوڑنے کے بعد پانی صاف ہوگیا ہے اور اب اشنان کے لیے بہتر پانی دستیاب ہے۔‘ الہ آباد میں جاری اردھ کمبھ میلہ ہر بارہویں سال ہونے والے کمبھ میلے کا نصف سمجھا جاتا ہے۔ سادھوؤں اور سنتوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شاہی اشنان کا آغاز کیا اور اس کے بعد عام ہندو عقیدت مندوں نے اشنان کرنا شروع کیا۔ عام طور پرعقیدت مند اتوار سے ہی اشنان کرر ہے ہیں لیکن شاہی اسنان پیر کے روز شروع ہوا ہے۔ میلے کے چیف منتظم روندر ناتھ تر پاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریبا نوے لاکھ عقیدت مند میلے میں شرکت کر رہے ہیں اور اشنان کا عمل منظم اور خوش اسلوبی سےچل رہا ہے۔ اشنان کے لیے انتیس مقامات بنائے گے ہیں۔الہ آباد میں بھاری گاڑیوں کے آمد ورفت پر وقتی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ اہم مقامات سے زائرین کی آمد ورفت میں پریشانی نہ ہو۔ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی اور غیر مقیم ہندوستانی بھی اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔ میلے میں آنے والے شرکاء کے لیے ہزاروں خیمے لگائے گئے ہیں اور حفاظت کے لیے بیس ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ | اسی بارے میں گنگا کنارے پہلا ہندو تِھیم پارک29 April, 2005 | انڈیا الہ آباد میں کمبھ میلے کا آغاز03 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||