الہ آباد میں کمبھ میلے کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمالی شہر الہ آباد میں تین دریاؤں کے سنگم پر لاکھوں ہندو عقیدت مندوں نے بدھ کی صبح ٹھنڈے پانی میں ’اسنان‘ کرکے (نہاکر) کمبھ میلے کا آغاز کیا ہے۔ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس میلے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے لاکھوں ہندو عقیدت مند جمع ہوئے ہیں۔ الہ آباد میں منعقدہ اردھ کمبھ میلہ ہر بارہویں سال ہونے والے کمبھ میلے کا نصف سمجھا جاتا ہے۔ میلہ تین دریاؤں گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر ہو رہا ہے۔ سرسوتی ایک تصوارتی دریا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس سنگم پر گنگا اور جمنا کے ساتھ ملتا ہے۔ میلے میں آنے والے شرکا کے لیے ہزاروں خیمے لگے ہوئے ہیں اور حفاظت کے لیے بیس ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ہندوؤں کا ایمان ہے کہ ان دریاؤں کے سنگم پر نہانے سے ان کے گناہ دھُل جاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دیوتاؤں اور بدی کی قوتوں کے درمیان آسمانوں میں مقدس پانی کے ایک برتن کے لیے لڑائی ہوئی تھی اور الہ آباد ان چار شہروں میں سے ایک ہے جہاں اس لڑائی کے دوران برتن میں سے مقدس پانی کے قطرے گرے تھے۔
میلے میں شرکت کے لیے ہندو سادھو اپنے اوپر راکھ مل کر، بغیر لباس کے یا نارنجی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس شرکت کرتے ہیں۔ بیرون ملک سے بہت لوگ سنگم پر پہنچے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ میلے کے پہلے روز تقریباً ساٹھ سے آٹھ لاکھ کے درمیان لوگ پانی میں اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ لوگ انیس جنوری کو متوقع ہیں جب ایک دِن میں تقریباً چار کروڑ لوگ سنگم میں نہائیں گے۔ اتنے بڑے ہجوم میں حکام کو سب سے زیادہ خطرہ بھگدڑ کا رہتا ہے جس میں ماضی میں جانی نقصان بھی ہو چکا ہے۔ میلے کے ایک منتظم پرگیام رام مشرا نے کہا کہ حکومت نے میلے کے لیے تین کروڑ اسی لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ دریاؤں کا پانی نہانے کے لیے صاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اچھا ہے اور شہر سے دریاؤں میں گرنے والے دو نالے بند کر دیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’اپنے والدین کی خدمت کرو‘25 August, 2004 | انڈیا بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم 27 January, 2005 | انڈیا بھاگ کر شادی کرنے والوں کا میلہ12 April, 2005 | انڈیا ملاج پور کا بھوت میلہ25 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||