ملاج پور کا بھوت میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی اکیس سالہ رکمنی ایک شرمیلی اور سنجیدہ دیہاتی لڑکی ہے لیکن اس کے والدین کو یقین ہے کہ اس پر جن آتے ہیں۔ رکمنی کے والد کا کہنا ہے ’ وہ عجیب وغریب زبان بولتی ہے۔ وہ ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جنہیں ہم جانتے تک نہیں۔ وہ چیختی چلاتی ہے اور پھر بے ہوش ہو جاتی ہے۔‘ رکمنی کے والدین اس کی حالت کو دیکھ کر اسےمغربی مہاراشٹرا میں واقع اپنے گاؤں سے وسطی مدھیہ پردیش کے گاؤں ملاج پور لائے ہیں جہاں پر جن، بھوت اتارنے والے افراد کا ایک قدیمی میلہ لگتا ہے۔ رکمنی اور اس کے والدین ان ہزاروں افراد میں سے ہیں جو اس ایک ماہ تک جاری رہنے والے ’بھوت بھگاؤ میلے‘ میں شریک عاملوں اور چلہ کاٹنے والے افراد سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ رکمنی ان چند افراد میں سے ہے جن کا علاج اس میلے میں ہو گا۔ اس میلے میں شریک دو سو عاملوں میں سے ایک نے رکمنی کا علاج کرنے کا ڈھونگ رچایا اور اس کے جاہل والدین اپنی ’صحتیاب‘ ہو جانے والی بیٹی کو لے کر واپس ہو گئے۔ اگرچہ حقیقت میں رکمنی پر اس علاج کا کوئی اثر نہیں ہوا تاہم وہ پھر بھی بہت سے بدقسمت مریضوں سے بہتر ہے۔ اس میلے میں لائے جانے والے اکثر مریضوں کو اس وقت تک مارا پیٹا جاتا ہے جب تک عامل انہیں تندرست قرار نہیں دے دیتا۔ جھاڑو سے مار پیٹ کے علاوہ مریضوں کو زمین پر رینگنے اور پرساد چاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جب ایک عامل سے پوچھا گیا کہ جن انسانوں پر کیوں قبضہ کر لیتے ہیں تو چندرہاس سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ کچھ جن تو ہوتے ہیں جبکہ کچھ بدلہ لینے کے لیے ایسی حرکت کرتے ہیں اور کچھ جن یہ سب صرف تفریح کے لیے کرتے ہیں‘۔ اس ’بھوت میلے‘ میں مریضوں کے علاوہ وہ لوگ بھی آتے ہیں جو کہ ’شفایاب‘ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ریاست گجرات کا جگدیش نیک ان میں سے ایک ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس میلے میں گزشتہ دس برس سے آ رہا ہے۔ پہلی بار وہ اپنے اوپر موجود ایک جن کو اتروانے کے لیے اس میلے میں آیا تھا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میلے میں پہلی بار آنے سے قبل وہ اپنے علاج کے لیے متعدد ماہرینِ نفسیات کے پاس بھی گیا لیکن کوئی فرق نہیں پڑا اور پھر اسے اس کے ایک دوست نے مدھیہ پردیش کے ’بھوت میلے‘ کے بارے میں بتایا۔ جگدیش کا کہنا ہے کہ اس میلے میں آ کر پہلی بار ہی میں وہ صحت مند ہو گیا اور اب وہ ہر سال میلے کی گہماگہمی دیکھنے آتا ہے۔ نفسیات دان اس میلے کی مقبولیت کا سبب لوگوں کی توہم پرستی قرار دیتے ہیں۔ بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے سربراہ کے این ترپاٹھی کا کہنا تھا کہ اس میلے میں آنے والی زیادہ تر دیہاتی خواتین ہوتی ہیں اور وہ اپنے سسرال اور شوہروں کے مظالم کے نتیجے میں نفسیاتی طور پر بیمار ہوتی ہیں اور ان کی یاسیت کا نتیجہ ان عاملوں پر یقین کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جن کا آ جانا‘ توجہ حاصل کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے کیونکہ مریض کے قریبی لوگ اس پر زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||