BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2003, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاتوں کے بھوت نہیں مانتے‘

طالبعلم
دور دراز وادئ تیراہ میں یہ بچہ سردی کے باجود اپنی خوشی سے سکول جا رہا ہے۔

’لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے‘: کیا اس ضرب المثل کی ضربیں لگانے والے پوری ایمانداری سے کہہ سکتے ہیں کہ زندگی میں انہوں نے ’لاتوں کے کتنے بھوتوں‘ کو ’لاتوں‘ سے ٹھیک کیا ہے یا ٹھیک ہوتے دیکھا ہے؟ کم سے کم میرے مشاہدے میں ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو سے یہ خبر آئی کہ وہاں کے ایک گاؤں شناوڑی میں لوگوں نے ایک مقامی عالم دین کی سرکردگی میں دو غیر سرکاری تنظیموں کے مرد اور خواتین کارکنوں کو علاقے میں نہ صرف کام کرنے سے روک دیا بلکہ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی۔

یہ کارکن علاقے میں قائم سکولوں میں بچوں پر جسمانی تشدد سے متعلق ایک سروے میں مصروف تھے۔ ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سروے ایک ملک گیر پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد بچوں پر جسمانی تشدد اور بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔

بچوں پر جسمانی تشدد کسی مخصوص علاقے میں نہیں بلکہ ملک بھر میں ہوتا ہے اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھوں ہوتا ہے جن کی پہلی ذمہ داری اس تشدد کو روکنا ہے۔ اور عذرِگناہ بدتر از گناہ کے مصداق یہ دلیل دی جاتی ہے: ’ہم تو بچوں کی بہتری کے لئے انہیں مارتے ہیں۔‘

ایسے سختگیر باپ بھی ہیں جو کہتے ہیں: ’میں نے تو مولوی صاحب/ٹیچر سے کہا دیا ہے، ’بچے کی ہڈیاں ہماری، کھال آپ کی‘۔

پاکستان میں بچوں پر تشدد مختلف صورتوں میں کیا جاتا ہے جس میں والدین، بالخصوص والد، ٹیچر اور مولوی صاحب ڈنڈے، بید، تھپڑ، لاتوں اور مکّوں کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں کی انگلیوں کے درمیان پنسل پھنسا کر اسے گھمایا جاتا ہے۔ کبھی مرغا بنایا جاتا ہے، تو کبھی اُٹھک بیٹھک کروائی جاتی ہے اور کبھی فرش پر ناک رگڑوائی جاتی ہے۔ کبھی ہاتھ اوپر کرکے ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے کو کہا جاتا ہے۔ غرض اس معاملے میں تمام خداد تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بعض ٹیچر تو مارتے بھی ہیں اور شاگردوں کو ذہنی اذیت دینے کے لئے نہ صرف خود ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ دوسرے بچوں کو بھی مار کھانے والے بچوں پر ہنسنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مرغا بنا کر ان سے بانگ دینے کو کہتے ہیں۔

میں نے ابتدائی تعلیم جس سکول میں حاصل کی وہ ایک مسجد کی چھت سے ملحق تھا۔ وہاں اساتذہ نے ’شریر‘ بچوں کو سزا دینے کا یہ انوکھا طریقہ ڈھونڈا کہ بچوں کو دھوپ میں مسجد کی چھت پر ننگے پیر کھڑا کر دیا جاتا تھا اور جب بچہ پیر جلنے کی وجہ سے اچھلتا تھا تو مسجد کے میناروں پر اپنے گھونسلوں میں انڈے سیستی چیلیں دفاعی حکمت عملی کے تحت آکر سر پر ٹھونگیں مارتیں۔ (ویسے خوش قسمتی کہیئے کہ مجھے کبھی یہ سزانہیں بھگتنا پڑی)

یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہے کہ گھروں، سکولوں اور مدرسوں میں جن بچوں کو مارا جاتا ہے وہ یا تو مزید کند ذہن ہو جاتے ہیں یا پھر ڈھیٹ۔ مار پیٹ کا شکار ہونے والے بچوں کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ وہ یا تو اس قدر ڈرپوک ہوجاتے ہیں کہ اپنے حق کے لئے بھی آواز نہیں اٹھا سکتے یا پھر ان کی طبیعت میں تشدد پسندی پروان چڑھنے لگتی ہے، وہ گھر اور محلے میں چھوٹے بہن بھائیوں اور بچوں کی دھنائی کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے لگتے ہیں۔ایسے معاشروں میں آزاد شہری پیدا نہیں ہوتے بلکہ یا تو زیردست ہوتے ہیں یا زبردست۔

یہ کہنا کہ تشدد کی مخالفت مغربی نظریہ اور مغرب کی اسلام کے خلاف سازش ہے بالکل غیر منطقی بات ہے۔

بچوں، عورتوں اور کمزوروں پر تشدد مغرب اور مشرق کا مسئلہ نہیں، نہ ہی کسی مذہبی دلیل سے اسے جائز ثابت کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اسلام سمیت دوسرے مذاہب اس کی نفی کرتے ہیں۔ اور پھر مذہبی معاملات میں تو مارپیٹ کا اثر بالکل الٹا ہوتا ہے۔

مجھے یاد ہے جب والد صاحب بچپن میں نماز پڑھنے کے لئے مجھ پر اور چھوٹے بھائی پر سختی کرتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد ہو لیتے، ان کے سامنے مسجد کے صدر دروازے سے داخل ہوتے اور جب وہ نیت باندھ لیتے تو بغلی دروازے سے باہر نکل جاتے۔ ایک بار گھر آکر انہوں ہمیں پیش ہونے کا حکم دیا۔ جب دونوں بھائی سامنے آئے تو کہنے لگے: ’تم نے نماز کہاں پڑھی؟‘ ہم نے کہا آپ کے ساتھ تو مسجد گئے تھے۔ کہنے لگے کہ سلام پھیر کر جب انہوں نے دیکھا تو ہم لوگ صف میں نہیں تھے۔ اس پر زچ ہوکر میں نے کہا کہ آپ نماز پڑھنے جاتے ہیں یا ہمیں دیکھنے جاتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کا بچوں سے برتاؤ پیار اور شفقت کا ہونا چاہئے چاہے بچے کا دل پڑھنے پر مائل ہو یا نہ ہو۔ ہر بچے کی اپنی اٹھان ہوتی ہے وہ اس کی صلاحیتیں اپنے وقت پر نکھرتی ہیں۔ سکولوں کے کئی ذہین بچے کالجوں میں آکر اپنی کارکردگی برقرار نہیں رکھ پاتے، اسی طرح کئی کمزور دل و دماغ والے بچے آگے چل کر خود بخود زیادہ نمبروں سے پاس ہونے لگتے ہیں۔

یہ بات بالکل ایسی ہے جیسے ہر پودا اپنے وقت اور موسم میں پھلتا پھولتا ہے۔ ان میں قلمیں لگانے کا بھی اپنا موسم اور طریقہ ہوتا ہے۔

نہ تو ہر بچہ افلاطون پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو مار کر آئن سٹائن بنایا جا سکتا ہے۔ مشہور موجد ایڈیسن کو سکول میں یہ کہہ کہ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا کہ وہ کند ذہن ہیں۔ ایڈیسن کی سب سے مشہور ایجاد بجلی کا بلب ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی ایجادات کی فہرست ایک ہزار پر مشتمل ہے۔

الغرض نہ ہی لاتوں کا کوئی بھوت ہے اور نہ ہی اس سے کچھ منوانے کے لئے لاتوں کی ضرورت۔ کوشش یہ کرنی چاہئے کہ بچے کی ذہنی اٹھان کو دیکھ کر اسے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ اس کی خداداد صلاحیتی پنپ سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد