کنبھ میلے کے لیے کارخانے بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست الہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر جاری اردھ کمبھ میلے کے مد نظر حکومت نےاسّی صنعتی کارخانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حکام نے یہ فیصلہ اس ليے کیا ہے تاکہ اردھ کمبھ میلے کے دوارن عقیدت مندوں کے لیے صاف نہانے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔ کارخانون کا گندا پانی دریائےگنگا میں گرتا ہے جس کے سبب اس کا پانی آلودہ ہوچکا ہے۔ کارخانوں کو اردھ کمبھ میلے کے آخری دن یعنی سولہ فروری تک بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اترپردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کے سیکریڑی سی ایس بھٹ نے بی بی سی کو بتایا’ کانپور اور انّناؤ میں واقع چمڑے کے رنگنے کے ستر کارخانے بند کر دیے گئے ہيں اور ساتھ ہی مغربی اضلاع میرٹھ اور مظفر نگر کے دس کاغذ ملوں اور شراب کے کارخانے کو بھی بند کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔‘ ان کاکہنا تھا’ کارخانوں میں گنگا کے علاوہ گندے پانی کے نکلنے کا کوئی متبادل نظام نہیں ہے اس لیے پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔‘ حکومت نے کارخانوں کو بند کر نے کا فیصلہ عقیدت مندوں کی اس دھمکی کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے اجتماعی طور پر خودکشی کرنے کی بات کہی تھی۔ اس معاملے میں عدالت سے مداخلت کی گزارش بھی کی گئی تھی۔ صنعتی کار خانوں سے نکلنے والے رنگین گندے پانی کے سبب گنگا کا پانی لال رنگ کا ہو گیا ہے ۔اس کی وجہ سے ہندو زائرین کو اپنے مذہبی فریضہ اشنان (غسل) کرنے میں پریشانی کا سامنا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق گنگا کی اوپری سطح پر واقع ڈیم سے تازہ اور صاف پانی بھی گنگا میں چھوڑ گیا ہے۔ میلے کے چیف منتظم ار این ترپاٹھی نے بتایا’ اوپری سطح سے صاف پانی چھوڑنے کے بعد پانی صاف ہوگیا ہے اور اب اشنان کے لیے بہتر پانی دستیاب ہے۔‘ الہ آباد میں جاری اردھ کمبھ میلہ ہر بارہویں سال ہونے والے کمبھ میلے کا نصف سمجھا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں الہ آباد میں کمبھ میلے کا آغاز03 January, 2007 | انڈیا گنگاجمنا سنگم پرلاکھوں کا اجتماع 15 January, 2007 | انڈیا گنگا کنارے پہلا ہندو تِھیم پارک29 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||