انڈیا: بھگوان کرشن کا ’جنم دن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے شہر ممبئی سمیت ملک میں ہندؤوں کے بھگوان کرشن کا ’جنم دن‘ بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ہندو اپنے بھگوان کے جنم دن پر دہی ہانڈی پھوڑتے ہیں۔ یہ دہی ہانڈی رسی کے ساتھ اونچائی پر باندھ دی جاتی ہے۔ اس میں دودھ، دہی اور رنگین پانی ہوتا ہے۔ نوجوان انسانی ’ٹاور‘ بنا کر اس تک پہنچتے اور اسے پھوڑتے ہیں۔ یہ رسم ممبئی میں اب سیاسی رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے اور ہر سیاسی پارٹی نے اسے اپنی تشہیر کا حصہ بنا لیا ہے۔ ممبئی میں کئی مقامات پر کانگریس، نیشنلسٹ پارٹی، شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران نے دہی ہانڈی لٹکا رکھی ہے اور اسے پھوڑنے والوں کے لیے لاکھوں روپوں کے انعامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ ہر پارٹی ایک دوسرے سے زیادہ انعام کا اعلان کر کے دہی ہانڈی پھوڑنے والے منڈلیوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے۔ پارٹی لیڈر ان پر اپنا حق مانتے ہیں۔ کانگریس لیڈر سنجے نروپم کا کہنا ہے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لیڈر سچن اہیر نے منڈل کے لڑکوں کو اپنی پارٹی کی تشہیر کے لیے پارٹی نشان کی ٹی شرٹ دی ہیں۔ دہی ہانڈی پھوڑنے والے منڈل میں لڑکے سب سے اونچائی پر ایک چھوٹے بچے کو کھڑا کرتے ہیں۔اس سے پہلے نوسال اور دس سال کے لڑکے لڑکیاں اوپر چڑھتے تھے لیکن اس برس تھانے کے منڈل نے ایک ڈیڑھ سالہ بچے انیل شرما کا انتخاب کیا اور ان کے والدین بھی اس کے لیے راضی ہیں۔ انہیں گزشتہ دو ماہ سے اس کی تربیت دی جا رہی تھی۔ چند سال سے لڑکیوں نے بھی دہی ہانڈی پھوڑنے میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ان کے اپنے منڈل ہیں اور یہ سال بھر اس کی مشق بھی کرتی ہیں۔اس سال لڑکیوں کا ایک منڈل اندھیری میں دہی ہانڈی پھوڑے گا جس میں بالی وڈ اداکارہ ایشا کوپیکر شریک ہو رہی ہیں۔
تھانے کے منڈل نے اس پروگرام میں فلمی ستاروں کو مدعو کرنے کے ساتھ مشہور ڈسکو جاکی عقیل کو بلایا ہے اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں موجود لوگ فلمی گیتوں پر رقص کر رہے ہیں۔ ممبئی میں دہی ہانڈی کا یہ تہوار چونکہ بڑے پیمانے پرمنایا جاتا ہے۔ اس لیے منڈل کے لوگ علاقے کے لوگوں سے چندہ جمع کرتے ہیں۔ اکثر علاقے کے’غنڈے‘ اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور چندہ نہ دینے والوں کو دھمکایا بھی جاتا ہے۔گزشتہ روز باندرہ کے جاگرز پارک میں چندہ نہ دینے پر ایک لڑکے کا قتل کر دیا گیا۔ پولیس اس کی تفتیش کر رہی ہے۔ دہی ہانڈی پھوڑنے کے لیے شہر میں ایسے کئی منڈل ہیں جس میں سو سے زیادہ لڑکے ہوتے ہیں جو سال بھر اس کی مشق کرتے ہیں۔ یہ تیس فٹ سے پینتیس اور چالیس فٹ اونچی ہانڈی توڑتے ہیں۔ ہر برس یہ اونچائی بڑھا دی جاتی ہے اور انعام اتنا بھی زیادہ کردیا جاتا ہے۔ انعام کے لالچ میں گزشتہ برس پینتیس فٹ اونچائی پر رکھی ہانڈی توڑنے میں چار افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق) کے ایل پرساد نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ برس سے پولیس ہانڈی کی اونچائی طے کرے گی کیونکہ یہ خوشی کا تہوار ہے اوراس موقع پر موت غم کا پیغام لاتی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ساتوں دن بھگوان کے۔۔27 September, 2006 | انڈیا پانچ ہندو عقیدت مند زخمی 21 June, 2006 | انڈیا گنگا میں لاکھوں ہندوؤں کا اسنان 19 January, 2007 | انڈیا کس کا ہندوستان بدل رہا ہے ؟04 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||