ساتوں دن بھگوان کے۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا ایک دوہا ہے، ساتوں دن بھگوان کے، کیا منگل کیا پیر اس دوہے کو لکھے ہوئے کئی سال بیت گئے تھے آج اچانک یاد آ گیا۔ اس کی یاد آنے کی وجہ مہاراشٹر کے پاور لوم کے شہر مالیگاؤں میں آٹھ ستمبر کو ہونے والے دھماکے ہیں جن کی لپیٹ میں آئے بتیس لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ سو سے زائد گھائلوں میں بڑی تعداد ان بھکاریوں کی بتائی جاتی ہے جو شب بارات کے دن دور دور سے چل کر وہاں کی رحمانی مسجد کے سامنے اور مسجد سے تھوڑے فاصلے پر بڑے قبرستان کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ جو بھیک مانگ کر روزی روٹی چلاتے ہیں وہ مذہب کی تقسیم کو نہیں مانتے۔ ان کے لیئے مندر کے بھگوان، مسجد کے رحمان یا مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں قبروں کے نشان ۔۔۔ سب برابر ہوتے ہیں۔ سیاست بکھاریوں کی اس سیکولر خاصیت سے بخوبی واقف ہوتی ہے اس لیئے کبھی ان کے ماتھے پر تلک لگاکر رام سیوک بنا دیا جاتا ہے ۔ کبھی ان کے سر پر ٹوپی رکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگوایا جاتا ہے اور کبھی سیاسی قوت کے اظہار کے لیئے انہیں گاؤں کھیڑوں سے بلا لیا جاتا ہے۔ جدھر بھی روٹی بلاتی ہے غریبی ادھر چلی جاتی ہے۔ غریبی کی دنیا کھاتے پیتے لوگوں کی دنیا کی طرح سیماؤں اور سرحدوں میں نہیں بٹتی۔ اس کی دنیا روٹی سے شروع ہوتی ہے اور روٹی پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ خدا کو مورت یا قدرت کے روپ میں نہیں سوچتی۔
اس غریبی کے لیئے آسمان اور زمین دو بڑی روٹیوں کی طرح ہیں جس میں اس کی اپنی روٹی بھی چھپی ہوتی ہے، جس کو پانے کے لیئے کبھی وہ بھجن گاتی ہے، کبھی کلمہ دہراتی ہے اور کبھی حضرت عیسٰی کی شبیہہ کے سامنے سر جھکاتی ہے۔ تاج محل کی نگری کے شاعر نذیر احمد غالب کے سینئر ہم عصر تھے۔ آدمی کی سوچ اور نظریے میں اس کا طبقہ جھانکتا ہے۔ اسی طبقاتی اعتبار سے غالب کی فکر کا مرکز موت، زندگی، خدا اور کائنات تھے جبکہ نذیر جو گھر گھر جاکر بچوں کو پڑھانے والے استاد تھے ان کے مضامین روٹی، مفلسی اور خیرات تھے۔ وہ کھاتے پیتے لوگوں کی دنیا میں بھوکوں ننگوں اور پھکڑوں کے شاعر تھے۔ ان کے اسی گناہ کےسبب ایک لمبے عرصے تک ادب کے ناقدوں نے انہیں منہ نہیں لگایا۔ کبیر کی طرح نذیر کو بھی تاریخ نے بہت دیر سے اپنایا۔ نذیر عوامی شاعر تھےاور عام لوگوں کی ہی طرح ان کی قسمت میں بھی غریبی کے راستے میں بھاگتی دوڑتی روٹی کا پیچھا کرنا تھا۔ غالب شکم سیر فلسفے کے فنکار جبکہ نذیر بھوک میں روٹی کی تلاش کے کلاکار تھے۔ غالب فرماتے ہیں: غالب کو تصورجاناں کے لیئے فرصت درکار تھی اور نظیر کی شاعری غریبی کے روگ سے بیمار تھی۔ نذیر کے ’روٹی نامے‘ کا یہ بند ملاحظہ ہو۔ دہشت کون پھیلاتا ہے، اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، کون اس کے آگے ہے، کون اس کے ساتھ ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کی تلاش سوچنے والوں کو مسلسل بھٹکاتی رہتی ہے۔ ان سوالوں کے جواب لوگ اپنے اپنے محدود دائروں میں ٹٹولتے نظر آتے ہیں۔ کوئی اسلام کو اس کا ذمےدار مانتا ہے کوئی اسے عیسائیت کی شکل میں پہچانتا ہے۔ کوئی مذہب کے نام پر امریکہ، لندن اور کشمیر وغیرہ پر نشانہ لگاتا ہے اور کوئی اس کے جواب میں ہنستی گاتی زمین کو افغانستان اور بغداد بناتا ہے۔ سب کے پاس اپنے جواب اور اپنی دلیلیں ہیں جس کی پبلیسٹی جتنی اچھی ہے اس کی دلیل اتنی ہی سچی ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک غزل لکھی تھی جس کا مطلع یوں تھا۔ جیسی جسے دکھے یہ دنیا، ویسی اسے دکھانے دو اپنی اپنی نظر ہے سب کی کیا سچ ہے یہ جانے دو یہ سچ ہے کہ جسے میں نے ’جانے دو‘ سے جوڑا ہے صدیوں سے مٹھی بھر لوگوں کے استحصال کا شکار ہے، اس سچ کو چھپانے کے لیئے بڑی بڑی اسکیمیں بنائی جاتی ہیں، رنگ برنگی تصویریں چھپوائی جاتی ہیں، نئی نئی دیواریں ڈھائی جاتی ہیں، طرح طرح کی نقابیں پہنائی جاتی ہیں اور اس طرح عام آدمی کی سوچ کی آزادی پر کنڈی چڑھائی جاتی ہے۔ ہمارا سماج چرواہوں اور بھیڑوں کا سماج ہے۔ چرواہے شمار میں بھلے ہی کم ہوں لیکن ان کی ہانکنے والی لکڑیوں کا خوف زیادہ ہوتا ہے۔ بھیڑیں شمار میں خواہ کتنی زیادہ کیوں نہ ہوں ان کا مذہب چرواہوں کے پیچھے ہی چلنا ہوتا ہے۔ وہ یوں ہی چل رہی ہیں، صدیوں سے چل رہی ہیں، کیونکہ انہیں چپ چپ چلنے والی بھیڑ اسی ایشور، گاڈ یا خدا نے بنایا ہے۔ ہمارے سماج میں مذہب نے ہمیشہ اس قادر مطلق کو مطلق العنان کے طور پر سوچا اور مشتہر کیا ہے۔ اس فکر کی تبلیغ نے آدمی کی جہد کو نامرد بنا دیا ہے۔ اس نامردی کے خلاف جو آواز اٹھاتا ہے مجرم گردانا جاتا ہے۔ اس جرم کا الزام میری تحریروں پر بھی لگ چکا ہے۔ میرے کئی اشعار اور نظموں پر کافی لےدے ہوچکی ہے۔ اس میں سے ایک شعر یوں ہے۔ خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے وقت پر کچھ اپنا اختیار بھی رکھ ’اپنے اختیار‘ کی بات رب العالمین کے نزدیک گستاخی تصور کی جاتی ہے۔ ایشور کے اسی روپ کے حکم کے مطابق دروپدی داو پر لگائی جاتی ہے اور پتی کے ساتھ زندہ پتنی جلائی جاتی ہے۔ اور جب اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو مراٹھی کے درویش شاعر تکارام کی پوتھی ان سے چھین کر ندی میں بہائی جاتی ہے۔ کچھ سال قبل ممبئی کے کئی علاقے شراب کے غیر قانونی اڈّوں میں جگمگاتے تھے۔ وہاں اسکاچ سے ٹھرّے تک ہر طرح کی شراب ملتی تھی۔۔۔۔ شرابوں کے برانڈوں کے حساب سےپینے والوں کی فکر بھی اونچی نیچی ہوتی تھی۔ الگ الگ میزوں کو سجائے لوگ نشہ کر رہے تھے، انہی میں ایک میں بھی تھا۔ اسکاچ والی میز سے آواز آئی ’مائی ڈیر گاڈ از اے کانسپٹ‘، وہ دکھائی نہ دے کر ہر جگہ ہے‘۔ ہندوستانی وہسکی والے اسی موضوع پر بول رہے تھے، ’وہ بھلے ہی نظر نہ آئے لیکن اس پر یقین کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے‘۔ انہی میں سے ایک فقیر جو اپنی دن بھر کی تھکن مٹانے کے لیئے ٹھرّے کے ساتھ بیٹھا تھا، خاموشی سے دونوں طرف کی باتیں سن رہا تھا۔ سنتے سنتے وہ ایک دم جھلّا کر بولا ’بھائی صاحب میں دیر سے سن رہا ہوں، ادھر والے کہہ رہے ہیں ایشور دکھائی نہیں دیتا۔ ادھر والے بولتے ہیں وہ نظر نہیں آتا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک خیال ہے اور اس لیئے دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اس نے جیسی دنیا بنائی ہے ایسی دنیا بناکر وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے۔ اس لیئے وہ ہمیشہ چھپا رہتا ہے‘۔ غریبی کسی طرح کی ہو، کسی علاقے کی ہو وہ ایک بینک ڈرافٹ کی طرح ہے جسے ہر کوئی جیب میں ڈالے گھومتا ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے اسے کیش کرا لیتا ہے۔ لیڈر اسے کیش کراکے کرسی پاتا ہے، مصور اسے کیش کراکے اس سے تصویر بناتا ہے، شاعر اسے کیش کراکے انسانیت کا پرچم لہراتا ہے۔ غریبی سب کی ضرورت ہے۔ اس کے ہونے سے ہی سماج کی چمک دمک ہے۔ دنیا میں چہل پہل ہے۔ پریم چند کی ایک مشہور کہانی ’ کفن‘ کے بارے میں ایک دلت ناقد کی تنقید یاد آتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا پریم چند دلتوں کے متوسط طبقے کے ہمدرد تھے۔ خود دلت نہیں تھے اس لیئے بیوی اور بہو کی موت سے اگائے چندے کو شراب بناکر پیتے ہیں اور آلو بھون کر کھاتے ہیں۔ اس سماجی ناانصافی کے خلاف وہی آواز اٹھاتے ہیں۔ مالیگاؤں کی خبر پڑھ کر میں نے ایک غزل کہی تھی، اس کا ایک شعر ملاحظہ ہو: |
اسی بارے میں ’اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘10 August, 2006 | انڈیا ’ملا گھر کا پتہ دیر سے ‘22 September, 2006 | انڈیا مرزا اسد اللہ خان غالب اور ازار بند02 August, 2006 | قلم اور کالم مالیگاؤں میں حالات بدستور کشیدہ10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: دھماکوں کے پیچھے کون؟11 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||