BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں میں حالات بدستور کشیدہ

جمعہ کےدھماکوں میں 43 افراد ہلاک ہوئے
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں جمعہ کے دھماکوں اور ہلاکتوں کے بعد حالات اب تک معمول پر نہیں آسکے ہیں۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

پاور لوم صنعت کے لیئے مشہور مالیگاؤں میں جمعہ کی دوپہر ہونے والے چار بم دھماکوں میں 43 افراد ہلاک اور سو سے زائد کے زخمی ہوئے تھے جن میں سے کئی شدید زخمی افراد اب بھی ہسپتال میں طبی امداد لے رہے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ بم دو سائیکلوں پر نصب کیئے گئے تھے۔

جس سائیکل پر بم نصب کیا گیا تھا اس کے مالک رمیش اگروال کے بیٹے پرتیوش اگروال، سیلز مین سہیل اور فٹر مبین کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیئے طلب کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سہیل نے بتایا ہے کہ حملے سے ایک دن قبل دو لوگ آئے تھے اور انہوں نے دو سائیکلیں خریدیں جن کی قیمت انیس سو روپیہ فی کس تھی۔ انہوں نے سائیکلوں پر کیریئر فٹ کروائے اور پھر سائیکل پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی چلے گئے۔


علاقے میں فاران ہسپتال کے ڈاکٹر انتخاب فارانی نے بتایا ہے کہ ہسپتال میں اب بھی 58 شدید زخمی افراد موجود ہیں جنہیں یا تو شدید چوٹیں آئی ہیں یا جسم کا کوئی حصہ ضائع ہوگیا ہے۔ ان میں 25 بچے شامل ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کئی کے جسموں میں چھرے گھس گئے ہیں جن سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ ہے۔

شہر میں پولیس کی موجودگی برقرار ہے اور آئی جی پولیس پی کے جین نے علاقے کا دورہ کیا ہے اور لوگوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ امکان ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد ہی گرفتاریاں عمل میں آسکیں گی۔

مالیگاؤں کے بیشتر لوگوں کے روز گار کا انحصار پاور لوم فیکٹری کے خام مال کی فروخت پر ہے۔ تاہم کاروباری سرگرمیاں اب تک معمول پر نہیں آسکی ہیں۔ یہ خام مال عموماً گجرات سے آنے والے غیر مسلم تاجر خریدتے ہیں۔ پاور لوم ایکشن کمیٹی کے کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالعزیز مقادم کا کہنا ہے کہ تاجروں نے ہنگاموں کے ڈر سے اب تک خام مال نہیں خریدا ہے۔

شہر میں خدشات کے برعکس فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے ہیں۔ جمعہ کے دھماکے کے بعد لوگوں نے اے ایس پی انیل کمارے پر پتھراؤ کیا تھا اور ان کی گاڑی کو آگ لگادی تھی تاہم پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی اور نہ ہی لاٹھی چارج کیا۔

انسپکٹر جنرل پولیس پی کے جین نے بتایا ہے کہ دھماکے میں آر ڈی ایکس استعمال ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مرکزی وزیر شیوراج پاٹیل کے ہمراہ سنیچر کو شہر مالیگاؤں کا دورہ کیا۔ مرکزی حکومت کے وزیر نے جب دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ کے چیک تقسیم کرنے شروع کیئے تو وہا ں تنازع کھڑا ہوگیا۔

مہارشٹرا کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعتراض کیا اور کہا کہ جب ممبئی میں بم دھماکے ہوئے تو متاثرین کو ریاستی حکومت کی جانب سے ایک ایک لاکھ کے چیک دیئے گئے جبکہ ریلوے نے ہر مرنے والے کے لواحقین کو پانچ لاکھ کا چیک دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد