’ملا گھر کا پتہ دیر سے ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہرچھوڑا ہوا شہر تھوڑے عرصے تک جانے والے کا انتظار کرتا ہے۔ لیکن جانے والا جب لمبی مدت تک نہیں آتا تو شہر ناراض ہو کر شہری سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ سن پینسٹھ میں گوالیار چھوڑ کر روزی روٹی کی تلاش میں ممبئی گیا۔ وہاں چاروں جانب سمندر اور آسمان چھوتے ناریل کے درختوں سے دوستی کرنے میں کافی وقت لگ گیا۔ جب دوستی ہو گئی تو بمبئی نے مجھے وہ سبب کچھ دیا جو آج میری پہچان ہے۔ لیکن ان میں وقت کا ایک بڑا حصہ گزرگیا۔گزرے ہوئے وقت کے اس درد کو میں نے ایک غزل کے قالب میں ڈھالا ہے اس کے دو شعر یوں ہیں۔ کہیں چھت تھی دیوار و در تھے کہیں، ملا مجھکو گھر کا پتہ دیر سے ہوا نہ کوئی کام معمول سے گزارے شب و روز کچھ اس طرح بمبئی میں جب سر پر چھت آئی اور روٹی پانی سے فراغت پائی تو چھوڑا ہوا وہ نگر یاد آنے لگا جو بچپن سے جوانی تک میرے شب و روز کا ساتھی تھا۔مگر میری لمبی غیرحاضری سے ناراض ہوکر وہ اب وہاں نہیں تھا جہاں میں اسے چھوڑ کر گیا تھا۔ گھر کو کھوجیں رات دن، گھر سے نکلے گاؤں مجھے بھی میرا گاؤں پھر کبھی نہیں ملا۔ملتا بھی کیسے؟ جن کے پاس وہ اپنا پتہ ٹھکانا چھوڑ کر گیا تھا ان میں کچھ بزرگ پیڑ تھے، کچھ راستوں کے موڑ تھے، ایک دو منزلہ عمارت کی سڑک کی جانب کھلنے والی کھڑکی تھی۔ اب ان میں کوئی بھی اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ مگر وہ گوالیار جو میں نے جیا ہے وہ آج بھی میرے ساتھ ہے۔یادوں کے روپ میں۔ ان یادوں کے دو روپ ہیں۔ ایک وہ جو میں نےدیکھا تھا یا جیا تھا، دوسرا روپ وہ تھا جس کے بارے میں میں نے بڑی عمروں کی زبانی سنا تھا یا کتابوں میں پڑھا تھا۔
اس دیکھے ہوئے سنے ہوئے یا پڑھے ہوئے گوالیار کے بے شمار چہرے ہیں۔ ان میں ایک چہرہ ادب کا بھی ہے۔ گوالیار میں غزل کی شروعات، شاہ مبارک آبرو سے ہوتی ہے جو محمد شاہ کے زمانے کے شاعر تھے۔ وہ صوفی شیخ محمد غوث گوالیاری کی اولاد میں تھے۔ یہ وہ صوفی تھے جو مغل بادشاہ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک رتن تان سین کے بھی گرو تھے۔ تان سین کا مزار آج بھی غوث صاحب کے مزار کے پاس بھارت کے موسیقاروں کے لیئے جائے عقیدت ہے۔ میں جب تک وہاں تھا املی کا ایک گھنا پیڑ اس مزار پر سایہ فگن رہتا۔ موسیقی کے عاشق جب وہاں آ کر عقیدت کے پھول چڑھاتے تو ایک دو پتیاں اس پیڑ سے توڑ کر منھ میں رکھ لیتے تھے۔ ان کا یہ یقین تھا کہ املی کی ان پتیوں کو چبانے سے آواز میں مٹھاس پیدا ہوگی۔ پتہ نہیں اس عقیدت سے کتنوں کو فائدہ پہنچا لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ پیڑ جو کہ سینکڑوں کا یقین تھا آج سر سے پاؤں تک بے لباس ہے، زیادہ چاہت بھی کبھی دوسروں کی مصیبت بن جاتی ہے، اس درخت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ کبھی جو چھتنار پیڑ تھا اب ان کٹے پیڑ کی طرح تھا، کبھی یہاں بگلے اور طوطے منڈلاتے تھے اب ننگی شاخوں پر بیٹھے کوے کائیں کائیں فرماتے ہیں۔ ایک بار استاد حافظ علی خاں کے بڑے بیٹے سرود نواز مبارک علی خاں میرے ساتھ تھے، میں نے جب اس بابت ان سے بات کی تو انھوں نے کہا، یہ مزار کا ہی کرشمہ ہے کہ کوئے جو صدیوں سے بے سرے مانے جاتے ہیں وہ یہاں آکر جو کائیں کائیں کرتے ہیں اس میں بھی لے اور سر جگمگاتا ہے۔ مبارک علی خاں موجودہ استاد امجد علی خاں کے بڑے بھائی تھے۔ جن دنوں میں گوالیار میں تھا ان دنوں وہ ایک علاقائی موسیقی کالج میں موسیقی کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ جب بھی ملتے تھے موسیقی پر کم ہی بولتے تھے۔ زبان و ادب پر زیادہ بات کرتے تھے۔ وہ اکثر مشاعروں میں جایا کرتے تھےاور اپنی جیب سے خرچ کرکے گوالیار کے اچھے شعراء کو بلاتے بھی تھے۔ ان دنوں کے شعراء میں ترقی پسندی کا رجحان غالب تھا۔ ان شاعروں میں شیو منگل سنگھ سمن، جاں نثار اختر، مکٹ بہاری سروج اور ویرندر سنگھ کے نام خاص ہیں۔ انہی میں ان شعراء کرام کے نام آتے تھے جو ادب میں سیاست کے دخل کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں دعا ڈباہوی، ریاض گوالیاری، انور پرتاپگڑھی اور دوسرے تھے۔ نظم لکھی بھی جاتی ہے اور سنی بھی جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو لکھتے تو اچھا ہیں
دور کوئی رات بھر گاتا رہا ترا ملنا مجھے یاد آتا رہا چھپ گیا بادلوں میں آدھا چاند یا روشنی چھن رہی ہے شاخوں سے جیسے کھڑکی کا اک پٹ کھولے جھانکتا ہے کوئی سلاخوں سے لیکن اپنی میمیاتی آواز میں لفظوں کو الاسٹک کی طرح کھینچ کر جب وہ سناتے تو لوگ تالیاں بجانے لگتے تھے۔ جو نثار اپنی دھن میں آنکھیں موندیں پڑھے جاتے تھے اور سامعین اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ اس معاملے میں سمن جی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ صرف سناتے نہیں تھے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور آنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے وہ سماں باندھتے تھے کہ سننے والے ان کی شاعری سے زیادہ ان کے ڈرامائی انداز پر فدا ہوجاتے تھے۔ سمن جی کی اس ڈرامائی پیشکش کے سامنے اگر کوئی اور نام یاد آتا ہے تو وہ ہے کیفی اعظمی کا۔ کیفی اعظمی کو بھی قدرت
تجھ کو پہچان لیا دور سے آنے، جال بچھانے والے دوسری لائن میں ' جال بچھانے والے' پڑھتے ہوئے ان کے ہاتھ کا اشارہ گیٹ پر کھڑی پولیس والوں کی طرف تھا۔ وہ بے چارہ سہم گیا۔ اسی وقت گیٹ کریش ہوا اور باہر کھڑی جنتا اندر گھس آئی اور پولیس والا ڈرا ہوا خاموش کھڑا رہا۔ بھیڑ کے اس ہنگامے کو بھی کیفی کی پاٹدار آواز نے خراب نہیں ہونے دیا۔ بزرگوں کی زبانی سنا ہوا گوالیار کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، ناراین پرساد مہر اور مضطر خیرابادی گوالیار کے دو استاد شاعر تھے، مہر صاحب داغ کے شاگرد اور ان کے جانشین تھے، مضطر صاحب داغ کے ہم عصر امیر مینائی کے شاگرد تھے۔
دونوں استادوں میں اپنے استاد کو لےکر چپقلش رہا کرتی تھی، دونوں اپنے اپنے شاگردوں کے ساتھ مشاعروں میں آیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی تعریف نہیں کرتے تھے۔۔۔ مضطر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شعر اس طرح سناتے تھے کہ شعر تصویر بن جاتا تھا، مضطر نے شعر سنایا: مضطر نے شعر اس طرح پیش کیا کہ مہر صاحب ساری رنجشیں بھول کر شعر سنتے ہی لوٹ پوٹ ہو گۓ اور چیخ چیخ کر داد دینے لگے، مشاعرہ ختم ہونے کے بعد جب ان کے شاگردوں نے انہیں وہی شعر پھر سنایا تو وہ بولے کہ شعر واقعی برا ہے لیکن وہ کمبخت اس طرح سنارہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی بیوی کی یاد آگئی جو گزشتہ کئی دنوں سے علیل تھی۔ ناراین پرشاد نےاس بحر میں جو غزل سنائی تھی اسکا مطلع یوں تھا: مضطر جانثار اختر کے والد اور نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا تھے۔ | اسی بارے میں مرزا اسد اللہ خان غالب اور ازار بند02 August, 2006 | قلم اور کالم یاد ماضی 09 August, 2006 | پاکستان ’اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘10 August, 2006 | انڈیا گیارہ ستمبر: ہندوستانی مسلمانوں کی بدلتی شناخت 10 September, 2006 | قلم اور کالم دلی والے کہتےہیں16 September, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||