دلی والے کہتےہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبر اور ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے حوالے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی کی خدیجہ عارف نے ہندوستان میں ذرائع ابلاغ کے ماہر اور حالت حاضرہ کے تـجزیہ کار سدھیش پچوری سے ایک گفتگو کی جس کی تفصیل یہاں دی جاتی ہے۔ سوال: دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ کا اثر ہندوستان میں بھی دیکھا گیاہے۔ ہندوستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ آپ کوکیا لگتا ہے کہ ہندوستان کو اس جنگ کو اپنے طریقے سے لڑنا چاہیۓ نہ کہ امریکہ اور برطانیہ کے طریقے سے؟ سدھیش پچوری : میں مانتا ہوں کہ ہندوستان اس معاملے میں ایک بہتر مثال پیش کر سکتا ہے۔ ابھی تک مغربی دنیا نے جو مثال پیش کی ہے ، وہ دہشت گردی کے ’کنسٹرکشن‘ ميں اور اس کے خلاف لڑنے میں انہوں نے مذہبی فنڈا منٹلزم سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ’ کاؤنٹر پروڈکٹوٹی‘ کے تحت ایک سوچا سمجھا فارمولہ ہے۔ بش صاحب نے 9/11 کے بعد ’ایول‘ یا برائی کا لفظ استعمال کر کے پوری مسلم برادری کو ایول سماج کی شکل میں دکھایا اور اس کے حساب سے عیسائیت کے تاثر کو پرانے جہادی تاثرات کو سوچنے سمجھنے کا حصہ بنا ڈالا۔ ابھی تک ہندوستان میں ایک چھوٹا سا حصہ فرقہ پرستوں کا ہے، چاہے وہ ہندوؤ ں کا ہے، جو اس بات کو کہتا رہا ہے لیکن عام ہندوستانی اس بات کو نہیں مانتے ہیں تو اس وجہ سے ہندوستان ایک بہتر مثال بن سکتا ہے۔ اور وہ یہ پیش کرتا رہا ہے۔ جہاں تک جمہوری دماغ کے لوگ ہیں اس پر یہ حملہ ہے۔مسلم طبقے کے درمیان بہت بڑي تعداد میں وہ لوگ نہ ہوں جو فرقہ پرستی کے خلاف نہ بولتے ہوں مگر جیسے جاوید اختر صاحب ہیں ،اس جیسے بہت سے لوگ ہیں جو کسی بھی طرح کے فنڈامنٹلزم کے خلاف ہیں اور جمہوری ذہنیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور دہشتگردی کے خلاف عام مسلمان بھی ہیں۔ یہ بات بار بار واضح ہوئی ہے کہ ہندوستان میں اس طریقے کی آوازیں بہت بڑی سرخی نہیں بنتی ہیں لیکن اب کچھ آوازیں آنے لگی ہیں۔ جیسے ابھی ممبئی بم دھماکوں کے بعد جیسے ہی امدادی کام چاہئیے تھا وہ مسلمانوں نے کیا ۔ تو اس طرح کے برتاؤ سے صاف ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے درمیان کوئی زيادہ دوری نہیں ہے۔ ہماری سوسائٹی ملٹی کلچرل ہے یعنی مختلف تہذیبوں کے لوگ ہندوستان میں ہیں اور ایسا شاید مغبری ممالک میں نہیں ہے۔ اس طرح کا مغرب اور ہمارے ملک کا ماڈل بالکل مختلف ہے ۔ یہی بات کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ لڑنے کے دوران ذہن میں رکھنی ہوگی۔ حکومت نے ابھی تک دہشتگردی کو مذہب سے نہیں جوڑا ہے ۔ اس سے پہلے جو حکومت اقتدار میں تھی اور ہندو نظریاتی تھی اس کی بھی یہ ہمت نہيں ہوئی کہ اسے سیدھے مذہب سے جوڑ کر دیکھے اس نے بھی یہ برابر کوشش کی کہ ایسا نہ ہو اور موجودہ حکومت نے بھی یہی کوشش کی ہے۔ آج کل جتنے بھی دہشت گرد گرفتار کۓ جاتے ہیں وہ سب مسلمان ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب مسلمان دہشت گرد ہیں۔ وزیر اعظم نے بھی حال میں یہی کہا ہے کہ مسلمانوں کو دہشت گردی کو جوڑنے سے آزاد خیال والے مسلمانوں کو اپنی جگہ بنانے میں دقت آرہی ہے۔ ہو یہ رہا ہے ٹونی بلیئر اب" نسلی پروفائیل" یا شناخت کی بات کر رہے ہیں ابھی تک تو چہرے کے پروفائیل کی بات ہوتی تھی۔ صدر بش ' اسلامک فاسزم' کی بات کررہے ہيں۔ القاعدہ کے ٹررزم کو اسلام سے جوڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں دہشت گرد اور اس طریقے سے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ اسے مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔ کشمیر میں ایک عرصے سے دہشت گردانہ واقعات ہورہے تھے۔ پنجاب میں بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ ہندوستان اس وقت روتا رہا جب کسی غیر ممالک نے اس کی مدد نہیں کی۔ اب امریکہ پر خود مصیبت پڑی تو وہ رو نہیں چلا رہا ہے پاگل ہوگیا ہے۔ اب وہ کہنے لگا ہے کہ ہندوستا ن ہمیں دہشت گردی سے لڑنے کے طریقے بتاۓ۔ امریکہ اور برطانیہ چھوٹے چھوٹے حملوں سے ڈر جاتے ہیں۔ ہندوستان کو ہلنا نہیں ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت ہے جو اس سب سے اکتا گئی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان اپنے دفاع کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔ اور اپنے دفاع کے لۓ کوشش کرتے بھی ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ مسلمانوں کی آواز بہت لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی ہے کیونکہ نہ انکے پاس کوئی مضبوط میڈیا نہ ہی کوئی دیگر سپورٹ۔ ایسے میں ہندوستان کے جو سیکولر لوگوں کی سپورٹ ان مسلمانوں کی اس آواز کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگی؟ ۔ بات چیت کا یہ ایک بہت ہی نیا علاقہ ہے ، اس سے قبل آزادی کی لڑائی میں اور گاندھی کے خلافت کی تحریک نے بھی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان آزاد اور ڈمیووکریٹک عناصر سامنے آئے تھے۔ لیکن جیسے جیسے فنڈامنٹلزم بڑھی اور ہندو یا پھر مسلمان رہنماؤں کی جانب سے یہ آواز آتی ہے کہ مذہب خطرے میں ہے تو آزاد خیال والےعام انسان ڈر جاتے ہيں۔ مسلم رہنما انہیں فتوے سے ڈراتے ہیں اور ہندو رہنما انکو برادری سے بے دخل کرنے کی بات کرتے ہيں۔ انسان "فنڈامنٹلزم " کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ ہندوؤں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم طبقے میں جو پڑھے لکھے ہیں وہ اس سے اکتا گۓ ہیں۔اگر یہ تمام آزاد خیال کے لوگ ایک ساتھ اکھٹا ہوں اور بات چیت کریں۔کیونکہ حالات اسطرح کے ہیں کہ ایک طرف مسلم فنڈامنٹلسٹ کی چکی ہے تو دوسری طرف مسلم فنڈامنٹلزم کی۔ آپ نے کہا کہ میں نہیں مانتا ہے کہ ہندوستان کا مسلمان ڈرا ہوا ہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں ہمت ہے لیکن جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو وہ پریشان ضرور ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور اس احساس سے ایک بے چینی ہوتی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ اس چیز کے لۓ قصور وار ٹھہراۓ جارہے ہیں جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہے۔ اور یہ بے چینی شاید انہیں اس طرف دکھیل دیتی ہے جہاں وہ کبھی نہیں جانا چاہتےہیں ۔ اور اسی چیز کا وہ لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان لوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں۔ |
اسی بارے میں حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: مطلوب افراد کے خاکے10 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||