مالیگاؤں: دھماکوں کے پیچھے کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں اس وقت عوام، پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر آٹھ ستمبر کو ہونے والے بم دھماکے کس نے کیئے۔ مہاراشٹر کی پولیس، ریاستی انٹیلیجنس، انسداد دہشت گردی کا عملہ اور نیشنل سکیورٹی گارڈ ان دھماکوں کی تفتیش کر رہے ہیں۔ اب تک ان تفتیشی ایجنسیوں نے صرف سائیکل خریدنے والے دو مشتبہ افراد کی شناخت کے لیئے خاکے تیار کیئے ہیں۔ دھماکے کسی مسلم شدت پسند تنظیم نے کیئے ہیں یا پھر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس یا بجرنگ دل نے، مالیگاؤں کے عوام اور عمائدین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کام کسی غیر مسلم تنظیم کا ہے کیونکہ اسی طرح کے بم دھماکے جالنہ، پربھنی اور ناندیڑ میں ہوئے تھے۔ سن دو ہزار دو اور تین کے درمیان پربھنی اور جالنہ کی مساجد پر بم پھینکے گئے تھے۔ پولیس اور انسداد دہشت گردی کے عملے نے چند افراد کو گرفتار بھی کیا تھا لیکن اس کے بعد تفتیش آگے نہیں بڑھ سکی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ نے ان خبروں کو شہ سرخیوں میں جگہ دی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اسی سال اپریل میں مہاراشٹر کے ہی علاقے میں ایک گھر میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور دو نے ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق جس گھر میں دھماکہ ہوا تھا وہ ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے دفتر کے ایک عہدیدار نریش راج کونڈور کا تھا۔ اس وقت گھر میں نریش اور ان کا ایک ساتھی ہیمانشو اور مزید دو افراد موجود تھے۔ گھر میں آر ڈی ایکس کا ذخیرہ تھا جس کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکے میں نریش اور ہیمانشو کی موت موقع پر ہی واقع ہو گئی اور دو زخمیوں ہسپتال میں دم توڑا۔ سب سے چونکانے والی بات یہ تھی کہ اس جگہ سے پولیس کو ایک نقلی داڑھی، ٹوپی اور لنگی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق انہوں نے اس وقت اس گھر سے ڈیڑھ کلو آر ڈی ایکس بھی ضبط کیا تھا۔ دھماکہ خیز اشیاء اور مسلمانوں کی طرز کی ٹوپی اور داڑھی کا ملنا، اس وقت لوگوں اور پولیس کے لیئے بھی موضوع بحث تھا لیکن ایک بار پھر اس معاملہ کو ذرائع ابلاغ نے اپنی شہ سرخیوں میں جگہ نہیں دی جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی ناظرین کو اس بارے میں زیادہ واقفیت حاصل نہیں ہو سکی۔ اے ٹی ایس نے ہی اس معاملہ کی جانچ کی لیکن وہ کسی کے ساتھ بھی اس تفتیش پر بات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ ناسک ڈویژن کے انسپکٹر جنرل آف پولیس پی کے جین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مالیگاؤں دھماکوں کی تفتیش میں ہندو فاشسٹ تنظیموں جیسے بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے ملوث ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں اور اس زاویہ سے بھی تفتیش جاری ہے۔ آئی جی جین کا کہنا تھا لیکن ان کی تفتیش کے دائرے میں مسلم شدت پسند تنظیمیں بھی ہیں۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ یہ تنظیمیں شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ آئی جی جین کا کہنا تھا کہ تفتیش کا رخ اس بات پر بھی ہے کہ بم میں وقت کا تعین شاید غلط ہوا ہے یعنی دن کے بجائے یہ وقت رات کا ہو سکتا تھا کیونکہ جمعہ کو شب برات تھی اور اس رات کم سے کم ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد بیک وقت قبرستان میں جمع ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی اس بات کی نشاندہی کی۔ مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے جنرل سکریٹری ابراہام متھائی نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پی ایس پسریچا کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکوں کی تفتیش کے دائرے میں بجرنگ دل اور آر ایس ایس کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرز پر مالیگاؤں میں دھماکے ہوئے بالکل اسی طرز پر جالنہ اور پربھنی اور ناندیڑ میں دھماکے ہوئے جن میں یہ ہندو تنظٰمیں شامل تھیں۔ | اسی بارے میں مالیگاؤں: بچوں کی آنکھوں میں خوف09 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:37 ہلاک، سو زخمی08 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں میں حالات بدستور کشیدہ10 September, 2006 | انڈیا حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: مطلوب افراد کے خاکے10 September, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے10 September, 2006 | انڈیا مسلمانوں کے لیئے امتحان کا دور11 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||