’جنماشٹمی‘ پر سیاسی رنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج ہندؤں کا مذہبی تہوار جنماشٹمی (گووندہ ) ہے۔ ہندو عقیدت مند یہ تہوار اپنے بھگوان کرشن کی پیدائش پر مناتے ہیں لیکن اس مرتبہ اس پرگہرا سیاسی رنگ چھایا ہوا ہے اور ہر سیاسی پارٹی نے دہی ہانڈی پھوڑنے والوں کو لاکھوں روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ دہی ہانڈی پھوڑنے کے لیئے تربیت یافتہ لڑکوں کے’منڈل‘ہوتے ہیں اور انہیں اپنی جانب راغب کرنے کے لیئے سیاسی پارٹیاں لاکھوں روپے انعام کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اپنی تشہیر کے لیئے پارٹی کے نشان اور نام کے ساتھ ٹی شرٹس تقسیم کرتی ہیں۔ شیو سینا سے علیحدہ ہونے والی مہاراشٹر کی علاقائی پارٹی نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے دہی ہانڈی پھوڑنے والوں کے لیئے بائیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ممبئی اور اس کے مضافات میں 173 ہانڈیاں نو نرمان سینا کے منڈل توڑیں گے۔ سب سے اونچی ہانڈی پھوڑنے والے منڈل کوگیارہ لاکھ روپے دیئے جائیں گے اور بقیہ ہر دہی ہانڈی کے لیئے اکیاون ہزار روپے کا انعام دیا جائےگا۔ سیاسی پارٹیوں میں دہی ہانڈی پھوڑنے کی دوڑ لگی ہے ۔ شیوسینا پارٹی نے شہر میں پانچ سو ہانڈیاں پھوڑنے کا اعلان کیا ہے تو وہیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس پارٹی کی ایک سو پچیس ہانڈیاں ہوں گی جسے مختلف منڈل توڑیں گے۔ این سی پی لیڈر سچن اہیر نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی شہر میں ایک سو پچیس ہانڈیاں پھوڑنے والوں کو انعام سے نوازيں گی لیکن انہوں نے رقم بتانے سے انکار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس میں کسی طرح کی سیاست ملوث نہیں ہے۔ اس’گوکل اشٹمی‘ کے موقع پر پہلی مرتبہ غیر ملکی فلمساز بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اور سپین میں سب سے اونچا انسانی اہرام بنانے والی ٹیم ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران بننے والی زنجیر کو فلمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ | اسی بارے میں حسین ساگر: مورتیوں کی غرقابی سے آلودگی21 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||