کشمیر: علیٰحدگی پسندوں کا اتحاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل علیحدگی پسند لیڈروں کی غالب اکثریت نے متحد ہو کر’کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے‘ اور ’ قابض افواج کو نکالنے‘ کے لیے نئی جدوجہد چھیڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولہ سے دامن کھینچتے ہوئے کہا کہ ’یہ فارمولہ مسئلہ کے حل کی جانب ایک قدم ہوسکتا ہے، مکمل حل نہیں، کیونکہ حریت حق خودارادیت میں یقین رکھتی ہے اور اس سے باہر کی تجاویز کا صرف مطالعہ کرنے کی قائل ہے۔‘ قریب دس سال تک حریت کانفرنس سے علٰیحدہ رہنے کے بعد پیر کے روز سینئر علیٰحدگی پسند لیڈر شبیر احمد شاہ نے فورم میں واپسی کا اعلان سرینگر کے مزار شہدا میں میرواعظ عمرفاروق کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ یاد رہے کہ پچھلے دس روز میں شبیر شاہ کے علاوہ کئی ایسے بااثر لیڈروں نے میرواعظ گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا جو پہلے سخت گیر موقف کے حامی سید علی گیلانی کے گروپ میں تھے۔ اپنی شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے شبیر احمد شاہ نے انگریزی میں کہا کہ، ’ہم اس مزار شہدا پر یہ عہد کرتے ہیں کہ (کشمیر پر) ہندوستانی قبضہ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی لڑائی متحد ہوکر لڑیں گے۔‘ انہوں نے پاکستان کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی سطح کی دیرینہ حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسلم ممالک تنظیم (اوآئی سی)، ایران اور دیگر مسلم ملکوں سے بھی اپیل کی کہ وہ زیادہ مؤثر انداز میں بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر دباؤ ڈالیں۔ مسٹر شاہ نے شہیدوں کا واسطہ دیتے ہوئے باقی لیڈران سےجن میں محمد یٰسین ملک اور سید علی گیلانی خاص طور پر شامل ہیں، اپیل کی کہ وہ ’شہدا کے مشن کو پوار کرنے کے لیے حریت میں شامل ہوجائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ سیدعلی گیلانی کی طرف سے رکھی گئی شرائط پر بھی حریت کانفرنس غور کرےگی۔ بعد ازاں مزار شہدا سے دونوں لیڈر ایک ساتھ سرینگر کے نواحی علاقہ راجباغ میں واقع حریت کانفرنس کے ہیڈکوارٹر پہنچے ۔ یہاں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران میرواعظ عمر فاروق نے بھی سید علی گیلانی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک سے حریت میں شامل ہونے کی ذاتی اپیل کی۔
میرواعظ نے صدر مشرف کے چار نکاتی فارمولے کے بارے میں رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ، ’مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ایک قدم ہوسکتا ہے مکمل حل نہیں۔‘ واضح رہے کہ اُنیس سو ترانوے میں کئی علیحدگی پسند لیڈروں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے نام ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں درج کشمیر سے متعلق قراردادوں پر ہندوستان کو اعتراض ہو تو بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت کے درمیان سہ فریقی بات چیت کا راستہ اپنایا جائے گا۔ شبیر شاہ اور دیگر لیڈروں نے میرواعظ گروپ میں اسی شرط پر شمولیت کی ہے کہ وہ ترانوے کے آئینی اتفاق رائے کو بحال کریں گے، جس پر میرواعظ نے مثبت ردعمل دکھایا۔ حریت کانفرنس کا یہ اتحاد دو ہزار تین میں اُس وقت ٹوٹ گیا تھا جب سید علی گیلانی نے جیل سے رہائی پانے کے بعد حریت قیادت پر الزام عائد کیا کہ اس نے دو ہزار دو کے اسمبلی انتخابات میں گھرگھر جاکر انتخابات کے خلاف بایئکاٹ کی مہم نہیں چلائی اور یہ ایک اکائی کی طرف سے الیکشن میں ’ پراکسی‘ امیدوار کھڑا کرنے پر اس کی سرزنش نہیں کی۔ تب سے مسٹر گیلانی نے تحریک حریت کشمیر نامی اپنی الگ پارٹی بنا لی ہے۔ انہوں نے میرواعظ گروپ سے نکلے بعض رہنماؤں پر مشتمل علیحدہ حریت کانفرنس بھی بنالی تھی لیکن پچھلے تین سال میں نعیم احمد خان، سید آغا حسن، ڈاکٹر حبی اور حکیم رشید سمیت تقریباً دس لیڈروں نے وفاداری تبدیل کرکے میرواعظ گروپ میں شمولیت کرلی۔ |
اسی بارے میں مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟18 March, 2007 | انڈیا مسئلہ کشمیر: آئر لینڈ کےماڈل پرغور15 June, 2006 | انڈیا کانفرنس میں شرکت سے انکار20 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا سہ فریقی مذاکرات کی ابتدا: حریت02 June, 2005 | انڈیا حریت پاکستان جانے کا فیصلہ 25 May, 2005 | انڈیا مشرف فارمولہ: خیر مقدم اور تنقید26 October, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||