BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشروط جنگ بندی پر قائم ہیں‘

سلیم گیلانی
’اگر دلی نے صلاح الدین کے بیان پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘
میرواعظ عمر فاروق کے ساتھی اور حریت لیڈر سلیم گیلانی نے انکشاف کیا ہے کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کے نگران سید صلاح الدین مشروط جنگ بندی کی پشکش پر اب بھی قائم ہیں۔

حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق سترہ جنوری کو کانفرنس کے سہ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان روانہ ہورہے ہیں جہاں سلیم گیلانی کے مطابق وہ صلاح الدین سے بھی ملاقات کریں گے۔ سلیم گیلانی پاکستان کا ایک ماہ کا طویل دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں۔

سلیم گیلانی کو خدشہ ہے کہ ’اگر دلی نے نومبر میں صلاح الدین کے بیان پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘۔

کشمیر واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلیم گیلانی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مظفرآباد کے کسی ’نامعلوم مقام‘ کے قریب چودہ مسلح گروپوں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ ڈھائی گھنٹے کی ملاقات کی۔

صلاح الدین نےاپنے بیان میں جموں و کشمیر میں فائربندی کے لیے قیدیوں کی رہائی، فوجوں کی بیرکوں میں واپسی، انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی اور مسئلہ کشمیر کو متنازعہ قرار دینے کے بعد کشمیری نمائندوں کے بامعنیٰ مذاکرات کی چار شرائط رکھیں تھیں

ان کا کہنا ہے کہ صلاح الدین اس وعدے پر قائم ہیں کہ جب حکومتِ ہند ایسا کوئی عندیہ دے گی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے سے متعلق آگے بڑھ رہی ہے تو ’مجاہدین اپنی بندوقیں خاموش کردیں گے‘۔

انہوں نے کہا’ میں صرف صلاح الدین سے ہی نہیں بلکہ سب ہی بڑے کمانڈروں سے ملا ہوں۔ وہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر واقعی امن عمل سے مسئلہ کشمیر حتمی حل کی طرف بڑھے تو بندوق راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے دورے سے میرواعظ اور صلاح الدین کے درمیان ملاقات کے لیےمناسب گراؤنڈ ورک کامقصد پورا ہوگیا۔

وہ پاکستان کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے علاوہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے بھی ملے ہیں۔

واضح رہے صلاح الدین نےاپنے بیان میں جموں و کشمیر میں فائربندی کے لیے قیدیوں کی رہائی، فوجوں کی بیرکوں میں واپسی، انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی اور مسئلہ کشمیر کو متنازعہ قرار دینے کے بعد کشمیری نمائندوں کے بامعنیٰ مذاکرات کی چار شرائط رکھیں تھیں۔

میر واعظ عمر فاروق سترہ جنوری کو کانفرنس کے سہ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان روانہ ہورہے ہیں
رابطہ کرنے پر میر واعظ عمر فاروق نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران مظفرآباد بھی جائیں گے جہاں وہ مسلح قیادت کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دوروں کے دوران مسلح قیادت اور ان کی حریت کانفرنس کے درمیان ’کافی گُڈ ِول‘ پیدا ہوگئی ہے جو آگے کا لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

میرواعظ عمر فاروق اور ہندوستان کے وزیر اعظم کے درمیان تیرہ جنوری سے قبل مذاکرات کا ایک اور دور ہونے کا امکان ہے۔

سیاسی تبصرہ نگار جاوید صدیق میر کا کہنا ہے کہ میر واعظ کی قیادت والی حریت کانفرنس دراصل نئے حالات میں اپنے لیے مناسب کردار کی تلاش میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد