BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 June, 2005, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سید صلاح الدین: مستقبل کیا ہوگا؟

سید صلاح الدین
صلاح الدین کو معلوم ہے کہ موجودہ حالات میں عسکریت کا کوئی مستقبل نہیں
یوسف شاہ المعروف پیر سید صلاح الدین اپنی سیاسی زندگی کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ وہ پچھلے پندرہ سال سے جموں کشمیر کی سب بڑی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ہیں۔ انہیں آئندہ چند مہینوں میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہیں کیونکہ موجودہ بین الاقوامی حالات میں جموں کشمیر میں عسکریت کا کوئی مستقبل نہیں۔

انیس سو نوے میں حزب المجاہدین کی قیادت سنبھالنے سے پہلے سید صلاح الدین جماعت اسلامی جموں کشیمر کے ایک درمیانے درجے کے رہنما تھے۔ پہلے وہ ضلع بڈگام کے امیرِ جماعت اسلامی بنے پھر سری نگر کے امیرِ جماعت اسلامی مقرر کیے گئے مگر ان کی وجہ شہرت ان کا وہ خطبہ ہوتا تھا جو وہ ہر نماز جمعہ سے پہلےنمائش گاہ سری نگر کی مسجد میں دیا کرتے تھے۔

سید صلاح الدین عسکریت میں اپنی مرضی سے نہیں آئے۔ جماعت اسلامی جموں کشمیر نے حزب المجاہدین کو اپنا بازوئے شمشیر زن ماننے کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا سرپرست بھی مقرر کر دیا۔ ایک سال بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ان کو سرپرست اعلیٰ کی بجائے حزب المجاہدین کا سپریم کمانڈر ہونا چاہیے کیونکہ یہ عسکری تنظیم ہے۔ چنانچہ انہوں نے سرپرست اعلیٰ کا عہدہ ختم کر دیا اور حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر بن گئے۔ وہ ایک ایسے سپریم کمانڈر ہیں جنہوں نے شاید ہی کبھی عملی طور پر عسکریت میں حصہ لیا ہو۔

سید صلاح الدین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہےکہ انہوں نے پہلے ہی اپنے معتمدین سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین آج کل اس لیے عسکریت پر زور دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ کمزرو نہ دکھائی دیں۔ حزب المجاہدین اور سید صلاح الدین کافی حد تک جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے فیصلوں کی پابند ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کو سید صلاح الدین کے واپس سیاست میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ جماعت اسلامی اور حزب المجاہدین آج کل یوسف شاہ کو سید علی شاہ علی شاہ گیلانی کا سیاسی جانشین قرار دے رہی ہے۔

صلاح الدین کیسے مشہور ہوئے
انیس سو نوے میں حزب المجاہدین کی قیادت سنبھالنے سے پہلے سید صلاح الدین جماعت جموں کشیمر کے ایک درمیانے درجے کے رہنما تھے۔ پہلے وہ ضلع بڈگام کے امیرِ جماعت اسلامی بنے پھر سری نگر کے امیرِ جماعت اسلامی مقرر کیے گئے مگر ان کی وجہ شہرت ان کا وہ خطبہ ہوتا تھا جو وہ ہر نماز جمعہ سے پہلےنمائش گاہ سری نگر کی مسجد میں دیا کرتے تھے۔

حزب المجاہدین کے میڈیا سیل کے ایک رکن جناب متین فکری نے حال ہی میں پندرہ روزہ جہادِ کشمیر میں ایک مضمون میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سید صلاح الدین ہی سید علی شاہ گیلانی کے جائز سیاسی جانشین ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کافی بوڑھے ہو چُکے ہیں اور ایک دن ان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ اس لیے ابھی سے ان کے جانشین کا فیصلہ ہو جانا چاہیے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ سید صلاح الدین کچھ عرصے سے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ اخباری خبروں کے مطابق وہ میر واعظ عمر فاروق سے ٹیلی فون پر رابطے میں ہیں۔ حال ہی میں جب میر واعظ پاکستان آئے تو انہوں نے سید صلاح الدین سے ایک لمبی ملاقات بھی کی۔ کچھ اخباری خبروں کے مطابق انہو ں نے میرواعظ سے حریت کانفرنس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے جس کے جواب میں میر واعظ نے ان کو مستقبل میں حریت کانفرنس کی رکنیت دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اپنے سیاسی ماضی کی وجہ سے سید صلاح الدین سیاست میں واپس آ سکتے ہیں۔ مگر یہ اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا سمجھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے انہیں اپنے عسکریت پسند ساتھیوں کو مطمئن کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد انہیں اُن خاندانوں کو جواب دینا پڑے گا جن کے لڑکوں نے عسکریت میں اپنی جان تک دے دی۔

مگر سید صلاح الدین کی سیاست میں واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔ سید صلاح الدین کا نام بھارت کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ہے۔ اس وجہ سے وہ بھارت کی مرضی کے بغیر سری نگر نہیں لوٹ سکتے۔ اگر انہوں نے سیاست کرنی ہے تو ان کو سری نگر لوٹنا ہوگا۔ اگر انہوں نے پاکستان میں رہ کر کشمیر کی سیاست کی تو ان کا کردار پاکستان میں دوسرے حریت کانفرنس کے دوسرے درجے کے رہنماؤں سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد