BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو سال بعد بھی، بے چھت، بے زمین

News image
متبادل زمین اور چھت چاہتے ہیں
 ’ہم بہت تنگ آئے ہیں لیکن ہم بے بس ہیں۔ اب ہم یہ سوچ کر بھی کیا کریں کہ ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے ہیں‘۔ وہ متبادل زمین اور چھت چاہتے ہیں

زلزلے کو دو سال ہوگئے ہیں لیکن اب بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چھ ہزار سے زائد افراد خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی زمینیں زلزلے میں تباہ ہوگئی تھیں۔

مظفرآباد میں عیدگاہ روڈ پر قائم خیمہ بستی میں تقریباً ڈیڑھ سو خاندان آباد ہیں۔ ان میں سے بھی بہت سے خاندانوں کی زمینیں زلزلے کی نذر ہوگئی تھیں۔

خیمہ بستی کے رہائشی چور ڈھکی گاؤں کے محمد سلیم کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے علاقے میں واپس نہیں جاسکتے ہیں کیوں کہ زلزلے میں ہمارے گھر اور زمنیں تباہ ہوگئیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری زمینوں میں ایسی بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں کہ وہ اب رہائش کے قابل نہیں اور ان پر گھر بھی تعمیر نہیں کیے جاسکتے ہیں‘۔

محمد سلیم کا کہنا تھا کہ ان کی اور ان کے چھ بھائیوں کی ایک سو تیرہ کنال پر مشتمل ساری زمین زلزلے میں تباہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم بہت تنگ آئے ہیں لیکن ہم بے بس ہیں۔ اب ہم یہ سوچ کر بھی کیا کریں کہ ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے ہیں‘۔ وہ متبادل زمین اور چھت چاہتے ہیں۔

چور ڈھکی گاؤں زلزلے میں تباہ ہوا تھا اورجیالوجیکل سروے آف پاکستان نے بھی اس گاؤں کو ناقابل رہائش قرار دیدیا ہے۔

اسی گاؤں کے ایک اور شخص جانباز کا کہنا ہے کہ ’ہم دو سال سے خیمہ بستی میں بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو تسلی دیتے رہتے ہیں کہ آج یا کل اراضی یا پیسے مل جائیں گے‘۔

دو سال سے خیمہ بستی میں ہیں
News image
 ہم دو سال سے خیمہ بستی میں بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو تسلی دیتے رہتے ہیں کہ آج یا کل اراضی یا پیسے مل جائیں گے

انہوں نے کہا ’اگر ہم اپنے علاقوں میں واپس نہیں جاسکتے تو ہمیں ہمارے گھروں کے معاوضے کی باقی اقساط ہی دے دی جائیں تاکہ ہم اپنی جان ان خیمہ بستیوں سے چھڑائیں اور کسی طرف چلے جائیں۔ ہم ان خیمہ بستیوں میں نہیں رہنا چاہتے ہیں، ہم یہاں اپنے بچوں کو سنبھالیں، عزتوں کی حفاظت کریں یا پھر مزدوری کریں‘۔

زلزلے میں دیہی علاقوں کے بے زمین ہونے والے لوگوں کو حکومت پاکستان پانچ مرلے زمین خریدنے کے لیے پچہتر ہزار روپے فراہم کررہی ہے۔

اس ضمن میں بے زمین افراد کی چھان بین کر کے پانچ مرلے متبادل اراضی خریدنے کے لیے رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے ضلعی ادارے ہیبیٹاٹ کو سونپی گئی ہے۔

ہیبیٹاٹ کے انفارمیشن افسر محمد کامران عباسی کہتے ہیں کہ انہوں نے اگست میں باقاعدہ دفاتر قائم کرکے کام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران دو ہزار سے زائد بے زمین لوگوں نے دراخواست فارم جمع کرائیں ہیں جن میں چار سو ایسے افراد جو خیمہ بستیوں میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جانچ پڑتال کے بعد دو سو لوگوں کو بے زمین قرار دیا گیا ہے جبکہ دیگر لوگوں کی درخواستیں جانچ پڑتال کے مختلف مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کو بے زمین قرار دیا گیا ہے ان میں سے تقریباً ڈیڑھ سو افراد کو کچھ دنوں میں پانچ مرلے اراضی کے لیے ادائیگی ہو جائے گی۔

انہوں نےکہا کہ جانچ پڑتال سے لے کر رقم کی ادائیگی تک ایک سے دو ماہ صرف ہوتے ہیں اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس سارے عمل کو مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

حکام کے ان دعوؤں کے باوجود دیہی علاقوں کے ایسے متاثرین کی کمی نہیں ہے جن کا خیال ہے کہ ان کی جو زمینیں تباہ ہوئی ہیں ان کا رقبہ پانچ مرلے سے کئی گنا زیادہ تھا اور دوسرا یہ کہ پچہتر ہزار روپے میں بعض مقامات پر پانچ مرلے زمین کا حصول بھی آسان نہیں۔

چودہ بستیاں، ساڑھے گیارہ سو خاندان
News image
 کل چودہ خیمہ بستیوں میں چھ ہزار سے زائد افراد پر مشتمل کوئی ساڑھے گیارہ سو خاندان آباد ہیں اور دیہی علاقوں کے بے زمین لوگوں کی صحیح تعداد چھان بین مکمل ہونے پر ہی معلوم ہو سکتی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ کل چودہ خیمہ بستیوں میں چھ ہزار سے زائد افراد پر مشتمل کوئی ساڑھے گیارہ سو خاندان آباد ہیں اور دیہی علاقوں کے بے زمین لوگوں کی صحیح تعداد چھان بین مکمل ہونے پر ہی معلوم ہو سکتی ہے۔

اس خیمہ بستیوں کے مکینوں میں بعض خاندان ان دیہی علاقوں کے ہیں جہاں تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کا دوبارہ جائزہ لے کر ان خاندانوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائےگا۔

ان بستیوں کے مکینوں میں مظفرآباد شہر کے لگ بھگ چار سو ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن کے علاقوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے یا وہ شہر کے ماسڑ پلان کی زد میں آرہے ہیں یا پھر ان کی ‏‏زمینیں ‏‏‏ زلزلے میں تباہ ہوئی تھیں۔

عید گاہ روڈ پر قائم خیمہ بستی میں رہائش پذیر مظفرآباد کے محمد یاسین کہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے خیمہ بستی میں نہیں رہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں زلزلے میں تباہ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے علاقے میں نہیں جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہمارے لیے سیٹلائٹ ٹاونز بنائے جارہے ہیں لیکن یہ کہاں بنائے جارہے ہیں کوئی نہیں جانتا، شاید قبرستان میں بنارہے ہیں، ادھر ہی جائیں گے اس کے سوا تو کچھ نظر نہیں آتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تنگ آئیں گے تو خود ہی بھاگ جائیں گے یا مر جائیں گے‘۔

انہوں نے کہا ’دو سال سے ہم گرمی اور سردی برداشت کر رہے ہیں، یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم یہ سب کچھ سہہ رہے ہیں، حکومت کے اہلکار ان بستیوں میں رہ کر دکھائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’ کل کہیں گے کہ یہاں سے چلے جاؤ اور ہم خانہ بدوشوں کی طرح چلے جائیں گے‘۔

News image
جواب کسی کے پاس نہیں
 ان خیمہ بستیوں کے مکین یہ سوال کرتے ہیں کہ انہیں مستقل چھت کب تک نصیب ہوگی اور فی الوقت اس کا جواب کسی کے پاس نہیں

حکام یہ ماتنے ہیں کہ خیمہ بستیوں میں مقیم شہر کے لوگوں کی آباد کاری کے لیے فی الوقت کوئی پالیسی نہیں ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ ان کو عارضی رہائش گاہیں فراہم کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان خیمہ بستیوں کے مکین یہ سوال کرتے ہیں کہ انہیں مستقل چھت کب تک نصیب ہوگی اور فی الوقت اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

کشمیر: زلزلہ متاثرین
ایک سال بعد بھی سردیاں خیموں میں ہی ہوں گی
زلزلہ متاثرین کے خیمےمتاثرین کی پریشانی
پرانےخیمے نئی سردی، کیا مقابلہ ممکن ہے؟
خیمے’سردی بہت ہے‘
خیمے بستوں کے مکین شدید سردی سے پریشان
خیمہ بستی بے پردگی کا مسئلہ
کاغانی خیمہ بستی میں کیوں نہیں رہتے؟
امداد میں دیری۔۔۔
باغ اور راولاکوٹ: صرف پچیس فیصد خیمے تقیسم
خیمےخیمے کہاں گئے؟
خیمے تقسیم کی بجائے ذخیرہ کیے جا رہے ہیں
خیموں کا شہر
گھروں سے خیمہ بستیوں تک: تصاویر میں
اسی بارے میں
خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم
28 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد