پاکستان: کشمیر میں یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں بھارت کے یوم جمہوریہ علامتی طور پر یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ 1988ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کے آغاز کے بعد کشمیر کے اس علاقے میں ہر سال بھارت کا یوم آزادی و یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منانے کی روایت ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مظفر آباد میں مسلم کانفرنس کی حکومت اور جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر ایک مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین بھارت کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے انہوں نے بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے ایک بینر پر یہ درج تھا ’بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ‘ جبکہ ایک کتبے پر یہ تحریر تھا ’کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی‘۔ اس مظاہرے میں کوئی ایک سو افراد شریک ہوئے جن میں عام لوگ کم ملازمین اور سکول کے بچے زیادہ تھے ۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ لوگ چونکہ تعمیر نو میں مصروف ہیں اس لیے ان کی شرکت کم رہی۔ اس مظاہرے کی قیادت کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے دو وزراء کے علاوہ جماعت اسلامی کے رہنما کر رہے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو ایک یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائیں اور بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ | اسی بارے میں پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں 07 July, 2006 | پاکستان کشمیری بچے کی شہریت: ویڈیو دیکھیں01 June, 2006 | پاکستان ’تعلقات کشمیر سے جوڑنا غلطی ہے‘02 May, 2006 | پاکستان ’یاسین ملک کے ساتھ اتحاد نہیں ‘25 April, 2006 | پاکستان ’کشمیر کو وفاقی جمہوریہ بنایا جائے‘01 April, 2006 | پاکستان ’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘12 March, 2006 | پاکستان اسلام آباد میں کشمیر پر کانفرنس10 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||