یوم جمہوریہ پر ہڑتال اور یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے یومِ جمہوریہ پر ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال کی اور یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال کےاعلان کے سبب تقریبا سبھی شہروں اور قصبوں میں بیشتر دکانیں بند رہیں اور ٹریفک نظام معطل رہا۔تاہم شدت پسندوں نے کسی بھی تقریب میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہيں کی۔ سری نگر میں یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریب سخت حفاظتی انتظامات کےدرمیان منایا گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی تقریب سری نگر میں واقع بخشی سٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ نائب وزیر اعلی مظفر بیگ نے پریڈ کی سلامی لی اور پرچم کشائی کی۔ چھ سکولوں کے طلباء نے بھی پریڈ میں حصہ لیا لیکن پریڈ کو دیکھنے کے لیے بہت کم ہی لوگ سٹیڈیم میں پہنچے تھے۔ وادی میں گزشتہ مہینوں میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن گورنر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کا کہنا کہ سیکیورٹی میں کسی طرح کی کوئی نرمی نہيں کی جائے گی۔ ان کاکہنا تھا’پاکستان میں ابھی بھی حالات معمول پر نہيں آئے ہيں اور ایسی صورت حال میں ہندوستانی سرحد میں شدت پسندوں کے داخل ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے سکیورٹی میں نرمی نہيں برتی جاسکتی ہے۔‘ ایس کے سنہا کا کہنا تھاکہ وادی میں چالیس لوگوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک فوجی تعینات کیےگيے ہيں اور یہ تعداد پاکستان کی ریاست وزیرستان اور تبت میں تعینات فوجیوں کی تعداد سےکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جب سرحد کے ذریعہ دراندازی پوری طرح رک جائے گي تو داخلی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے گیے حفاظتی اہلکاروں کو خوشی خوشی واپس بلا لیا جائے گا۔ | اسی بارے میں یوم جمہوریہ: فوجی طاقت کی نمائش 26 January, 2008 | انڈیا یوم جمہوریہ:پوتن مہمان خصوصی26 January, 2007 | انڈیا سری نگر:دوشدت پسند مورچہ بند 15 January, 2005 | انڈیا صدام کی پھانسی کے خلاف ہڑتال 05 January, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||