سری نگر:دوشدت پسند مورچہ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے بتایا ہے کہ سری نگر کے ایک سپورٹس کمپلیکس میں چھپے ہوئے شدت پسندوں اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق شدت پسندوں نے خاموشی سے کمپلیکس میں داخل ہونے کے بعد وہاں قائم پاسپورٹ کے دفتر میں پوزیشن سنبھالی لی۔ اسی کمپلیکس میں مرکزی ریزرو پولیس فورس کی ایک بٹالین بھی موجود ہے لیکن فورس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شدت پسند بٹالین کے کیمپ میں داخل ہونے میں ناکام رہے۔ یہ کمپلیکس بخشی سٹیڈیم کے قریب ہی واقعہ ہے جہاں چھبیس جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ پولیس اور فوج نے حملے کے بعد کمپلیکس کے گرد پوزیشن سنبھال لی۔ شدت پسند سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود کمپلیکس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کشمیر میں ایک اور ایک حملے میں بلدیاتی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے ایک امیدوار غلام محمد حکیم پر دستی بم پھینکا گیا۔ اس حملے میں دو پولیس افسروں سمیت اٹھارہ افراد زخمی ہوئے۔ غلام محمد حکیم حملے میں بال بال بچ گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||