سری نگر میں چار شہری ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشیمر میں ایک سرکاری عمارت پر شدت پسندوں کے حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شدت پسندوں کے حملے سے عمارت میں آگ لگ گئی تھی جس میں پچاس افراد پھنس گئے تھے۔ یہ آگ سرکاری عمارت کی تیسری منزل میں لگی جس پر عسکریت پسندوں نے خودکار رائفلوں اور دستی بموں سے حملہ کیا۔ جس وقت حملہ کیا گیا اس وقت عمارت میں محکمۂ انکم ٹیکس کے چالیس سے زائد ملازم موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں نے ان میں سے کسی بھی شخص کو یرغمال بنانے کی کوشش نہیں کی۔ پولیس نے ذرائع ابلاغ کے اہلکاروں کی مدد سے ان چالیس افراد کو عمارت سے بہ حفاظت باہر نکال لیا۔ ان افراد کی حفاظت کے لیے بیس پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ شدت پسند تنظیم المنصوری نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حملے کے بعد ہونے والے گولیوں کے تبادلے میں نیم بارڈر سکیورٹی فورس یا بی ایس ایف کے ایک کمانڈینٹ اور دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک عام شہری بھی ہلاک ہو گئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے آگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت عمارت سے باہر نکال لیا ہے۔ شدت پسندوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک عمارت کے اندر موجود ہیں۔ سری نگر کے بابر شاہ ضلع میں واقع اس عمارت میں انکم ٹیکس کے محکمے کے دفاتر موجود ہیں۔ کشمیر میں شدت پسند بھارت کے قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ انیس سو اناسی سے لے کر اب تک اس جدوجہد میں چالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||