کشمیر: مشترکہ کرنسی پر مِلا جُلا ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دونوں ملکوں کی مشترکہ کرنسی کے استعمال کی تجویز پر ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ یہ تجویز کشمیری رہنما اور ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید نے پیش کی تھی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور سرکردہ کشمیری رہنما سردار عبدالقیوم نے کہا کہ یہ معقول تجویز ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں یہ تجویز قابل عمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ’کشمیر میں تحریک چل رہی ہو لوگ مارے جارہے ہوں تو مشترک کرنسی کون استعمال کرے گا اور اس کو تو دونوں طرف غدار سمجھا جائےگا‘۔
انہوں نے کہا کہ’مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس رک رک کر چلتی ہے اور ایسے میں صورتحال کیسے معمول پر آسکتی ہے اور اسی طرح کشمیری بھارتی جیلوں میں ہیں، لوگ لاپتہ ہیں اور کوئی نیا قبرستان دریافت ہوا ہے اور بے شمار تلخی کی باتیں ہیں اور ان کو دور کیے بغیر مشترکہ کرنسی ایک مذاق بن کر رہ جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ’مشترکہ کرنسی کی تجویز پر اس وقت عمل کیا جاسکتا ہے جب حالات کو نارمل کیا جائے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی زندگی نارمل ہوگئی ہے‘۔ کشمری رہنماء اور بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید نے حال میں کشمیر کے دونوں حصوں میں بھارت اور پاکستان کی مشترکہ کرنسی استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔ م
خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے مشرکہ کرنسی کی تجویز یکسر مسترد کردی۔ انہوں نے کہا کہ’یہ تجویز پاکستان کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پر ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کی مشترکہ نگرانی کی تجویز کا حِصّہ معلوم ہوتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ خود دار، غیرت مند اور محب وطن کشمریوں کو یہ تجویز قابل قبول نہیں اور یہ کہ ہم ایک ملک کی بھی غلامی نہیں چاہتے اور یہ ہمیں دو دو ملکوں کی غلامی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’اگر بھارت کی کرنسی کو کشمیر کے اس حصے میں استعمال کی اجازت دی جائے گی تو اس سے بھارت کو برتری ہوگی اور سیاسی فائدہ ہوگا کیوں کہ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کو نقصان ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ کشمیریوں کے مستقبل کا ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں‘۔ کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل نے بھی مشترکہ کرنسی استعمال کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ’وہ ( مفتی محمد سعید) بھارت میں اہم ذمہ داریوں پر رہے ہیں اور وہ ہمیشہ بھارت کے مفادات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے یہ تجویز پیش کر کے بھارت کا حق نمک ادا کیاہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’بھارت کی کرنسی کو کشمیر کے اس علاقے میں استعمال کی اجازت دینے کا مطلب بھارت کے اس مؤقف کو تقویت پہنچانا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ایسی کوئی تجویز کشمیری قوم کو قبول نہیں جنھوں نے بھارت سے کشمیر کی آزادی کے لیے ایک لاکھ نوجوانوں کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے بھارت اور پاکستان کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کریں اور کشمریوں کے وجود کو تسلیم کریں پھر یورپی یونین کی طرح برصغیر میں کوئی یونین بنائیں، پھر اس طرح کی تجویز پر غورہوسکتاہے‘۔ | اسی بارے میں ’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ‘02 May, 2007 | پاکستان کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں07 February, 2007 | پاکستان کرکٹ: کشمیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی25 September, 2007 | پاکستان پاکستان: کشمیر میں یومِ سیاہ26 January, 2008 | پاکستان پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان ’کشمیر کے نام پر خزانہ لوٹا جا رہا ہے‘02 April, 2008 | پاکستان کشمیر: سینکڑوں آنتوں کی بیماری میں مبتلا11 April, 2008 | پاکستان کشمیرزلزلہ متاثرین امداد کے منتظر 10 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||