BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 02:52 GMT 07:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: مشترکہ کرنسی پر مِلا جُلا ردِ عمل

کشمیری خواتین(فائل فوٹو)
’مشترکہ کرنسی کی تجویز پر اس وقت عمل کیا جاسکتا ہے جب حالات کو نارمل کیا جائے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی زندگی نارمل ہوگئی ہے‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دونوں ملکوں کی مشترکہ کرنسی کے استعمال کی تجویز پر ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ یہ تجویز کشمیری رہنما اور ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید نے پیش کی تھی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور سرکردہ کشمیری رہنما سردار عبدالقیوم نے کہا کہ یہ معقول تجویز ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں یہ تجویز قابل عمل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ’کشمیر میں تحریک چل رہی ہو لوگ مارے جارہے ہوں تو مشترک کرنسی کون استعمال کرے گا اور اس کو تو دونوں طرف غدار سمجھا جائےگا‘۔

’دونوں کو نقصان‘
 اگر بھارت کی کرنسی کو کشمیر کے اس حصے میں استعمال کی اجازت دی جائے گی تو اس سے بھارت کو برتری ہوگی اور سیاسی فائدہ ہوگا کیوں کہ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کو نقصان ہوگا
سردار قمرالزماں
کشمیر کے اس علاقے کی حکمران جماعت کے سرپرست سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ’اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کشمیر میں اعتماد سازی کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ان اقدامات پر عمل کیا جانا چاہیے جن پر دونوں ممالک پہلے ہی متفق ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس رک رک کر چلتی ہے اور ایسے میں صورتحال کیسے معمول پر آسکتی ہے اور اسی طرح کشمیری بھارتی جیلوں میں ہیں، لوگ لاپتہ ہیں اور کوئی نیا قبرستان دریافت ہوا ہے اور بے شمار تلخی کی باتیں ہیں اور ان کو دور کیے بغیر مشترکہ کرنسی ایک مذاق بن کر رہ جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ’مشترکہ کرنسی کی تجویز پر اس وقت عمل کیا جاسکتا ہے جب حالات کو نارمل کیا جائے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی زندگی نارمل ہوگئی ہے‘۔

کشمری رہنماء اور بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید نے حال میں کشمیر کے دونوں حصوں میں بھارت اور پاکستان کی مشترکہ کرنسی استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔

م

مفتی محمد سعید
فتی محمد سعید کشمیر میں کانگریس قیادت والے حکمراں اتحاد کی اہم جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست ہیں۔ وہ دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد تین سال کے لیے ریاست کے وزیراعلیٰ بھی رہے اور بعد ازاں شراکت اقتدار معاہدہ کے تحت انہوں نے دو ہزار پانچ میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ کانگریس کے غلام نبی آزاد کو سونپ دیا تھا۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے مشرکہ کرنسی کی تجویز یکسر مسترد کردی۔

انہوں نے کہا کہ’یہ تجویز پاکستان کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پر ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کی مشترکہ نگرانی کی تجویز کا حِصّہ معلوم ہوتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ خود دار، غیرت مند اور محب وطن کشمریوں کو یہ تجویز قابل قبول نہیں اور یہ کہ ہم ایک ملک کی بھی غلامی نہیں چاہتے اور یہ ہمیں دو دو ملکوں کی غلامی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

’پہلے تلخیاں دور کریں‘
 مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس رک رک کر چلتی ہے اور ایسے میں صورتحال کیسے معمول پر آسکتی ہے اور اسی طرح کشمیری بھارتی جیلوں میں ہیں، لوگ لاپتہ ہیں اور کوئی نیا قبرستان دریافت ہوا ہے اور بے شمار تلخی کی باتیں ہیں اور ان کو دور کیے بغیر مشترکہ کرنسی ایک مذاق بن کر رہ جائے گی
سردار عبدالقیوم
بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے رہنما اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سردار قمرالزماں نے بھی اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا۔

انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’اگر بھارت کی کرنسی کو کشمیر کے اس حصے میں استعمال کی اجازت دی جائے گی تو اس سے بھارت کو برتری ہوگی اور سیاسی فائدہ ہوگا کیوں کہ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کو نقصان ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ کشمیریوں کے مستقبل کا ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں‘۔

کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل نے بھی مشترکہ کرنسی استعمال کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید پر سخت نکتہ چینی کی۔

انہوں نے کہا کہ’وہ ( مفتی محمد سعید) بھارت میں اہم ذمہ داریوں پر رہے ہیں اور وہ ہمیشہ بھارت کے مفادات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے یہ تجویز پیش کر کے بھارت کا حق نمک ادا کیاہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’بھارت کی کرنسی کو کشمیر کے اس علاقے میں استعمال کی اجازت دینے کا مطلب بھارت کے اس مؤقف کو تقویت پہنچانا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ایسی کوئی تجویز کشمیری قوم کو قبول نہیں جنھوں نے بھارت سے کشمیر کی آزادی کے لیے ایک لاکھ نوجوانوں کی قربانی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلے بھارت اور پاکستان کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کریں اور کشمریوں کے وجود کو تسلیم کریں پھر یورپی یونین کی طرح برصغیر میں کوئی یونین بنائیں، پھر اس طرح کی تجویز پر غورہوسکتاہے‘۔

اسی بارے میں
کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں
07 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد