کشمیرزلزلہ متاثرین امداد کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کو تیس ماہ گزرنے کے بعد بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لگ بھگ ایک لاکھ افراد پر مشتمل کوئی بیس ہزار خاندان ایسے ہیں جن کو مکان کی تعمیر کے لیے ابھی تک معاوضے کی ابتدائی قسط بھی نہیں ملی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے پاس اس مد میں رقم ختم ہو چکی ہے اور اس معاملے کو حکومت پاکستان کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے ۔ کشمیر کےاس علاقے کے بورڈ آف ریونیو کےحکام کے مطابق کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لگ بھگ بیس ہزار خاندانوں کو مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی ابتدائی پچیس ہزار روپے کی قسط نہیں ملی۔ بورڈ آف ریونیو نے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کو خط تحریر کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ابتدائی قسط سےمحروم خاندانوں کو ادائیگی کے لیے رقم فراہم کی جائے جو حکام کے مطابق پچاس کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تعمیر نو اور بحالی کے ادارے (ایرااور سیرا) متاثرین کو مکان کی تعمیر کے لیے چار مختلف مراحل پر چار اقساط میں پونے دو لاکھ روپے کی امداد کرتے ہیں۔ پہلے حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ دوسال قبل آنے والے زلزلےمیں لگ بھگ تین لاکھ پندرہ ہزارمکانات تباہ ہوگئے تھے یا ان کو جزوی نقصان پہنچا تھا اور حکام کے مطابق ان تمام کو پچیس ہزارروپےکی ابتدائی امداد فراہم کی گئی تھی لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے میں جوگھر تباہ ہوئے یا جن کو نقصان پہنچا ان کی تعداد زیادہ ہے ضلع باغ کے جاوید اختر بھی ان متاثرین میں ایک ہیں جن کو مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی پہلی قسط نہیں ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے کچھ عرصہ قبل ہم نے اپنا نیا مکان تعمیر کیا جس پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی لیکن شومئی قسمت زلزلہ آ گیا اور ہمارا مکان تباہ ہوا۔ انہوں نے کہا زلزلے کے بعد نقصان کا جائزہ لینے کے لیے سروے ٹیم آئی تو اس ٹیم نے ہمیں مکان کی تعمیر کے لیے امداد کا حقدار قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ فروری سن دوہزار چھ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں مقررہ مدت سے قبل امداد کے لیے درخواست جمع کرائی تو سروے ٹیم نے دوبارہ نقصان کا جائزہ لیا۔اس وقت سے لے کر اب تک ہم دفاتر کے چکر کا ٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاتر میں مو جود اہلکار کبھی کہتے ہیں کہ آپ کا کیس اسلام آباد بھیج دیا گیا ہے تو کبھی مظفرآباد اور انہیں تاحال اصل صورتحال واضح نہیں ہو رہی ہے ۔ ’ایرا اور سیرا کے لوگ زبانی جمع تفریق کر رہے ہیں کہ تمام لوگوں کومکان کی تعمیر کے لیے امداد کی پہلی قسط مل گئی ہے حقیقت اس سے برعکس ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی شدید سردی میں وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اوردفاتر کے چکر کا ٹ کر ذلیل وخوار ہو رہے ہیں جبکہ تعمیر نواور بحالی کے اداروں میں موجود لوگ عیاشی کر رہے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ایسے خاندان بھی موجود ہیں جن کے ساتھ تعمیر نو اور بحالی کے ادارے نے مکان کی تعمیر کے سلسلہ میں امداد کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں لیکن ان کو ابھی تک امداد کی دوسری قسط فراہم نہیں کی گئی۔ ضلع باغ کے قصبے دھیرکوٹ کی محفوظہ بی بی بھی ان متاثرین میں شامل ہیں۔ محفوظہ کہتی ہیں’سروے ٹیم نے جون سن دو ہزار چھ میں انہیں امداد کے لیےمفاہمتی فارم دیااور کہا کہ امداد کی دوسری قسط بینک میں آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت سے لے کر آج تک بینک اور تعمیر نو اور بحالی کے اداروں کے دفاتر کے چکر کا ٹ رہی ہے اور دفاتر کے اہلکار ٹرخا رہے ہیں ـ انہوں نے کہا کہ میرے چھ بچے ہیں اور زلزلے کے بعد سے وہ خیموں میں رہنے پرمجبور ہیں۔خیمے بوسیدہ ہوچکے ہیں اور جب آسمان پر بادل آجاتے ہیں تو میں پریشان ہو جاتی ہوں کہ کہیں بارش نہ برسے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ مجھے مکان کی تعمیر کے لیےامداد کی دوسری قسط فراہم کیوں نہیں کی جا رہی۔ ان کاکہنا ہے کہ’ان کے پاس ایک گائے ہے جس کے دودھ سے ملنے والی رقم دفاتر کے چکروں پر خرچ ہوگئی۔‘ ضلع باع کے ان متاثرین نے’تحریک برائے حقوق متاثرین زلزلہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر رکھی ہے۔اس تنظیم کے متحرک رہنما مہتاب اشرف نے بی بی سی کو بتا یا کہ’ڈپٹی کمشنر باغ نے تقریباً چھ ہزار متاثرین کے بارے میں تصدیق کی ہے کہ ان کو مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی ابتدائی قسط نہیں ملی ہے۔‘ ن کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال متاثرین کے لیے تکلیف دہ ہے جس کا احساس کرتے ہوئے تحریک برائے حقوق متاثرین زلزلہ بنائی ہے اور اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے ان متاثرین کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘ کشمیر کے اس علاقے کے زلزلے سے متاثرہ ان خاندانوں کو اب تک یہ امداد کیوں نہ مل سکی یہی سوال میں نے کشمیر کے اس علاقے کےتعمیر نو کے وزیر کرنل ریٹائرڈ راجہ نسیم خان سے کیا تو انکا جواب کچھ یوں تھا۔ ’مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی ابتدائی قسط سے محروم خاندانوں کا سروے کشمیر کی اس علاقے کی حکومت نے کروایا ہے اوراس میں کوئی ابہام نہیں کہ یہ خاندان حقدار نہیں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایرا نے حکومت آزاد کشمیر کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے کہ رہ جانے والے ان خاندانوں کو مکان کی تعمیر کے لیے امداد کی ابتدائی قسط ملنی چاہیے مگر وہ کہتے ہیں کہ اس مد میں آنے والی رقم ختم ہو چکی ہے اور ہمارے پاس فالتو رقم نہیں ہے۔ تعمیر نو کے وزیر نے کہا کہ ہم اس معاملے کو حکومت پاکستان کے سامنے اٹھا رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت پاکستان رقم کی فراہمی کا اہتمام کرے گی اگرچہ حکام یہ کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو حکومت پاکستان کےسامنے اٹھا رہے ہیں لیکن ان لوگوں کو امداد کب ملےگی اور یہ کبھی اپنا مستقل گھر تعمیر کر پائیں گے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب فی الوقت کسی کے پاس نہیں۔ | اسی بارے میں باغ: آگ لگنے سے تین بچے ہلاک04 December, 2007 | پاکستان زلزلہ: کرپشن، ایک شخص گرفتار 10 January, 2007 | پاکستان کوہستان میں دھماکہ، دو زخمی28 April, 2007 | پاکستان ’مذہبی تنظیم کا ہسپتال‘ نذرِ آتش11 June, 2007 | پاکستان ایرا: تنخواہوں پر کروڑوں خرچ17 August, 2007 | پاکستان گھر بنانا کبھی اتنا مشکل نہ تھا08 October, 2007 | پاکستان پندرہ ماہ میں صرف چورانوے سکول08 October, 2007 | پاکستان کیا کوئی مجھے بتائے گا؟08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||