’مذہبی تنظیم کا ہسپتال‘ نذرِ آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں پیر کی شام ایک طالب علم کی ہلاکت کے بعد ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے ایک مذہبی تنظیم کے زیرِانتظام چلنے والے ہسپتال کو نذرِ آتش کردیا ہے۔ اس نوجوان کی ہلاکت گولی لگنے سے ہوئی اور مقتول کے عزیزوں کے بقول گولی مذہبی تنظیم کے کارکن نے چلائی تھی۔ تاہم تنظیم اس کی تردید کر رہی ہے۔ مرنے والے کے عزیز سید عبدالرؤف کے مطابق تنازعہ اس وقت بڑھا جب مقتول عدنان اشفاق کے بڑے بھائی عمران اشفاق نے جماعت الدعوۃ کے کارکنوں کو اپنی ملکیتی زمین پر تعمیر سے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے کم از کم پندرہ کارکنوں نے مقتول کے بڑے بھائی اور ان کے دو ملازموں کو کمرے میں بند کر کے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اس واقعہ کی اطلاع ملی تو سارے لوگ وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے ایک عزیز نے انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک پہاڑی پر جمع ہوگئے کہ اسی دوران جماعت الدعوۃ کے کارکن پیچھے سے آئے اور ان کے ایک کارکن نے عدنان اشفاق پر گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔‘
اسی دوران بپھرے ہوئے ہجوم نے مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام چلنے والے ہسپتال اور اس کے عملے کی رہائش گاہوں کو نذر آتش کردیا۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان آفتاب حسین نے اس کی تردید کی کہ ان کے کسی کارکن نے گولی چلائی۔ انہوں نے اس کی بھی تردید کی وہ کسی کی نجی زمین میں تعمیر کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہسپتال سےملحق حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی زمین پر تعمیر کر رہے تھے۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتال کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کے پیچھے ان لوگوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو تنظیم کے زیرِ اہتمام چلنے والے اس ہسپتال کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ نے یہ ہسپتال زلزلے کے بعد قائم کیا تھا اور تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے زمین کی لیز حاصل کی ہوئی ہے۔ مظفرآباد کے اسسٹنٹ کمشنر مسعودالرحمان کا کہنا ہے کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ مقامی نوجوان کی ہلاکت مبینہ طور پر جماعت الدعوۃ کے اہلکار کی فائرنگ سے ہوئی ہے۔ مسعود الرحمان نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد اٹھارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: ٹیٹنس کے مریضوں میں اضافہ20 October, 2005 | پاکستان ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان طبی امداد کی فوری ضرورت21 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||