BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 23:35 GMT 04:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذہبی تنظیم کا ہسپتال‘ نذرِ آتش

ہسپتال کی آتشزدگی کے بعد اٹھارہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں پیر کی شام ایک طالب علم کی ہلاکت کے بعد ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے ایک مذہبی تنظیم کے زیرِانتظام چلنے والے ہسپتال کو نذرِ آتش کردیا ہے۔

اس نوجوان کی ہلاکت گولی لگنے سے ہوئی اور مقتول کے عزیزوں کے بقول گولی مذہبی تنظیم کے کارکن نے چلائی تھی۔ تاہم تنظیم اس کی تردید کر رہی ہے۔

مرنے والے کے عزیز سید عبدالرؤف کے مطابق تنازعہ اس وقت بڑھا جب مقتول عدنان اشفاق کے بڑے بھائی عمران اشفاق نے جماعت الدعوۃ کے کارکنوں کو اپنی ملکیتی زمین پر تعمیر سے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے کم از کم پندرہ کارکنوں نے مقتول کے بڑے بھائی اور ان کے دو ملازموں کو کمرے میں بند کر کے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اس واقعہ کی اطلاع ملی تو سارے لوگ وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے ایک عزیز نے انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک پہاڑی پر جمع ہوگئے کہ اسی دوران جماعت الدعوۃ کے کارکن پیچھے سے آئے اور ان کے ایک کارکن نے عدنان اشفاق پر گولی چلائی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔‘

تنازع کب بڑھا
 تنازعہ اس وقت بڑھا جب مقتول عدنان اشفاق کے بڑے بھائی عمران اشفاق نے جماعت الدعوۃ کے کارکنوں کو اپنی ملکیتی زمین پرتعمیر سے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر تنظیم کے کم از کم پندرہ کارکنوں نے مقتول کے بڑے بھائی اور ان کے دو ملازموں کو کمرے میں بند کر کے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
عبدالرؤف

اسی دوران بپھرے ہوئے ہجوم نے مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام چلنے والے ہسپتال اور اس کے عملے کی رہائش گاہوں کو نذر آتش کردیا۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان آفتاب حسین نے اس کی تردید کی کہ ان کے کسی کارکن نے گولی چلائی۔

انہوں نے اس کی بھی تردید کی وہ کسی کی نجی زمین میں تعمیر کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہسپتال سےملحق حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی زمین پر تعمیر کر رہے تھے۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتال کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کے پیچھے ان لوگوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو تنظیم کے زیرِ اہتمام چلنے والے اس ہسپتال کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

جماعت الدعوۃ نے یہ ہسپتال زلزلے کے بعد قائم کیا تھا اور تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے زمین کی لیز حاصل کی ہوئی ہے۔

مظفرآباد کے اسسٹنٹ کمشنر مسعودالرحمان کا کہنا ہے کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ مقامی نوجوان کی ہلاکت مبینہ طور پر جماعت الدعوۃ کے اہلکار کی فائرنگ سے ہوئی ہے۔ مسعود الرحمان نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد اٹھارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سترہ ہزار بچے ہلاک
زلزلہ: 17000 بچے فوت ہوگئے ہیں: یونیسف
ڈاکٹر عرفان نورڈاکٹر کی ڈائری
زلزلے کے بعد ہر جگہ پر ایک ہی کہانی ہے
حاملہ خواتین کا کرب
ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے لئے وارڈ نہیں
 پاکستانی فوجی کا تابوتزلزلے کا دسواں دن
قدرتی آفت کے دس دن بعد: تصاویر میں
اسی بارے میں
طبی امداد کی فوری ضرورت
21 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد