پندرہ ماہ میں صرف چورانوے سکول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کو دو سال ہوگئے لیکن پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں صرف چار فیصد تعلیمی ادارے تعمیر کیےگئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے بیشتر بچے خیموں میں یا پھر کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے سے کشمیر کے اس علاقے کے متاثرہ علاقوں مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، وادی نیلم اور سدھنوتی میں ستائیس سو سے زائد تعلیمی اداروں کی عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ ان سکولوں کو تین مالی سالوں میں تعمیر کیا جانا تھا اورگذشتہ مالی سال میں ساڑھے گیارہ سو تعلیمی ادارے تعمیر کیے جانے تھے۔ ان میں پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے ’ایرا‘ کو پونے پانچ سو سکول تعمیر کرنے تھے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی بنک کے علاوہ یونیسیف سمیت تین درجن ملکی اور غیر ملکی تنظیموں اور اداروں نے کوئی پونے سات سو تعلیمی ادارے اپنے ذمے لیے تھے۔ لیکن گذشتہ سال کے لیے مقرر کردہ ہدف شدید تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ حکام کے مطابق گذشتہ پندرہ ماہ میں صرف چورانوے سکول تعمیر کیے گئے جبکہ پونے دو سو سکول زیر تعمیر ہیں۔
وادی جہلم میں گرلز سکینڈری سکول کی ساتویں جماعت کی طالبہ سعدیہ کاظمی کہتی ہیں کہ’ ہم دو سال سے خمیوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہی ہیں اور خیموں میں پڑھائی کا کیا ماحول ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ تین سے چار جماعتیں ایک ہی خیمے میں بیٹھتی ہیں اور بچوں کے شور کے باعث ہم پڑھ نہیں سکتیں اور ٹیچر ہمیں جو کچھ پڑھاتی ہیں ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کیا خیمے ہمارا مقدر بن گئے ہیں اور کب تک ہمیں خیموں میں تعلیم حاصل کرنا پڑے گی‘۔ اسی سکول کی آٹھویں جماعت کی طالبہ کومل کہتی ہیں کہ’ بارش کے دوران اسکول میں چھٹیاں ہو جاتی ہیں کیونکہ خیموں کے اندر پانی آتا ہے اورگرمیوں کے دوران پنکھوں کے بغیر خیموں کے اندر بیٹھنا مشکل ہوتا ہے اور اگر باہر بیٹھتے ہیں تو سر میں درد ہوتا ہے اور سر چکراتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پڑھائی کیا ہوگی‘۔ انہوں نے بتایا کہ’اگر تیز ہوا چلتی ہے تو خیمے اکھڑ جاتے ہیں اور پھر کئی گھنٹے اس کو تنصیب میں لگ جاتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ’ بڑی بڑی گاڑیوں میں لوگ آتے ہیں اور وعدے کر کے چلے جاتے ہیں لیکن پھر واپس نہیں آتے۔ پڑھائی میں خلل کی وجہ سے نصاب کی کتابیں نصف سے بھی کم پڑھ سکے ہیں اور دو ماہ کے بعد ہم کیا امتحان دیں گے‘۔ نویں جماعت کی ایک طالبہ نے کہا کہ’ہمیں یہاں کوئی سہولت میسر نہیں۔ ہمارے سکول میں بلیک بورڈ بھی نہیں اور ٹیچر ہمیں زبانی حساب پڑھاتے ہیں تو ہمیں کیا سمجھ آئے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ’خیموں میں جگہ کم ہے اس لئے ہمیں باہر پتھروں پر بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ہے‘۔ لواسی گاؤں کا یہ گورئمنٹ گرلز سکول دو خستہ حال خیموں پر مشتمل ہے اور اس میں پہلی سے لے کر دسویں جماعت کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور خیموں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے بچیاں باہر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں اس سکول کی عمارت تباہ ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں قریباً تیرہ بچیاں اور ایک استانی ہلاک ہوگئی تھیں جبکہ متعدد بچیاں اور اساتذہ زخمی بھی ہوئے تھے۔
اس سکول کی ٹیچر نشاط مغل کہتی ہیں کہ’ہماری اہم ضرورت عمارت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر عمارت تعمیر کروائے۔عمارت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا ہے ’مشکلات کے باوجود بچے سکول آتے ہیں اور انہیں پڑھنے کا شوق ہے۔ تاہم یہ واحد سکول نہیں ہے جس کے بچے خیموں میں یا کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ کشمیر کے اس علاقے کے متاثرہ علاقوں میں بیشتر تعلیمی ادارے یا تو خیموں میں چلائے جاتے ہیں یا پھر یہ بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے تعمیرِ نو کے وزیر ریٹائرڈ کرنل راجہ نسیم خان کا کہنا ہے کہ’گذشتہ سال میں زیاد تر وقت منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، ٹنڈرنگ اور سکولوں کے ٹھیکے فراہم کرنے کے عمل میں صرف ہوا اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔اب تعمیر نو میں تیزی آ رہی ہے اور یہ کہ ہم اگلے دو سالوں کے دوران تمام تعلیمی اداروں کی تعمیر نو مکمل کر لیں گے‘۔ |
اسی بارے میں خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم 28 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||