کیا کوئی مجھے بتائے گا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اسلام آباد میں جب بھی اپنے فلیٹ کی بالکنی میں آتا ہوں تو آٹھ اکتوبر بھی میرے ساتھ چلا آتا ہے۔اور ہم دونوں بالکنی کی ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے دیر تلک سامنے کھڑے آسیب زدہ مارگلہ ٹاورز کے کھنڈرات کو تکتے رہتے ہیں۔ جن اپارٹمنٹس میں کبھی ائرکنڈیشنرز لگے ہوئے تھے اب انکے خالی موکھوں میں پرندوں نے گھونسلے بنا لیے ہیں۔ جن سبز قطعات پر کبھی بچے چہکتے تھے اب ان پر اونچی لمبی جنگلی گھاس نے قبضہ کرلیا ہے۔ مارگلہ ٹاورز کے صدر دروازے کے باہر کونے پر سنگِ سیاہ کی ایک یادگار کھڑی ہے جس پر ان ستر سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں کے نام لکھے ہیں جو دو برس قبل آج ہی کے دن ٹنوں ملبے میں دفن ہوگئے۔ ٹاور کا واحد مکین اب وہ چوکیدار ہے جو روزانہ اس سنگِ سیاہ پر کپڑا مارتا ہے۔ مارگلہ ٹاورز کے متاثرین چونکہ پڑھے لکھے خوشحال بااثر لوگ تھے لہذا انکی دادرسی کے لیے وزیرِ اعظم کا انسپکشن کمیشن بنا بلکہ سپریم کورٹ نے ناقص تعمیر اور ڈیزائننگ کا نوٹس لیتے ہوئے مفرور ملزموں کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کردیے اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پابند کیا کہ وہ متاثرینِ مارگلہ ٹاورز کو املاک کے نقصان کے تناسب سے پونے دو ارب روپے کا معاوضہ دے۔ مارگلہ ٹاورز کے سینکڑوں مکینوں کے برعکس آٹھ اکتوبر کے دیگر لاکھوں متاثرین نہ تو اتنے باشعور اور پڑھے لکھے تھے کہ خود کو منظم کرسکیں اور نہ ہی اتنے رسوخ والے تھے کہ حکومت کو عدالت کے ذریعے اپنے نقصان کے مکمل ازالے پر مجبور کرسکیں۔ چنانچہ زلزلے کے نتیجے میں جو ساڑھے چھ ہزار سکول اٹھارہ ہزار بچوں کی قبر بن گئے ان کے تعمیراتی ٹھیکیداروں اور ٹینڈر منظور کرنے والوں کے خلاف ایک سطر کا مقدمہ بھی درج نہ ہوسکا اور نہ ہی کسی جج کا دھیان اس جانب گیا کہ ازخود ایکشن لیا جائے۔ مارگلہ ٹاورز کے متاثرین کو تو ان کی املاک کی ویلیو کے حساب سے معاوضہ ملنا طے پایا لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں تہتر ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہونے والوں کے ورثاء، ستر ہزار سے زائد زخمی اور پینتیس لاکھ سے زائد بےگھر متاثرین کو پٹواریوں ، سروے کرنے والے میجروں اور معاوضے کے چیک دینے والے بینک تک، ہر ہر جگہ خود کو مستحق ثابت کرنے کے لیے پیسے، سفارش، شناخت اور کچہری سمیت ہرہر پاپڑ بیلنا پڑا۔ اس سے قطع نظر کہ کس متاثر کی ملکیت کی کیا ویلیو ہے ہر تباہ شدہ گھر کی تعمیر کے لیے اوسطاً ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ ملنے کا امکان نہیں۔اور زلزلے سے متاثرہ علاقے کی بحالی کا ذمہ دار ادارہ ’ایرا‘ کہہ چکا ہے کہ پچانوے فیصد سے زائد متاثرین کو معاوضہ مل چکا ہے۔
یہ معاوضہ چار قسطوں میں ادا کیا جانا تھا لیکن ہر قسط حاصل کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ مثلاً پہلی قسط چھ لاکھ متاثر گھرانوں کو ملی۔ دوسری قسط پانچ لاکھ تینتالیس ہزار گھرانے لے پائے۔ تیسری قسط صرف دو لاکھ چھتیس ہزار گھرانوں کو نصیب ہوسکی اور چوتھی قسط صرف چھبیس ہزار گھرانے وصول کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ ان حالات میں ’ایرا‘ کے بقول اب تک محض بانوے ہزار گھر بن پائے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ گھر تعمیر کے مختلف مرحلوں میں ہیں، جب کہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد متاثرین آج دو برس بعد بھی خیموں میں ہیں۔اس تصویر کے باوجود ایرا بڑی بہادری سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں ہر متاثر خاندان گھر میں ہوگا۔ جہاں تک زلزلے سے تباہ حال مظفر آباد، باغ ، راولاکوٹ اور بالاکوٹ کے ماسٹر پلانز ہیں تو ’ایرا‘ کے بقول وہ تیار ہو کر منظور ہو چکے ہیں۔لیکن یہ ماسٹر پلان زمین پر تب اتریں گے جب مطلوبہ زمین کا حصول مکمل ہوجائے گا۔ خود ’ایرا‘ نے اپنے لیے جو اہداف مقرر کیے تھے وہ کتنے پورے ہوسکے ہیں، اس کا اندازہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک یعنی بٹ گرام ضلع کی مثال سے لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں اس سال جولائی تک چھیالیس سکولی عمارات بننے کا ہدف تھا لیکن ان میں سے صرف چھ سکول مکمل ہو پائے اور وہ بھی جاپانیوں نے کیے۔ جولائی تک اٹھاون چھوٹی بڑی متاثرہ شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن تین سڑکیں بن پائیں۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں ایسے کمزور افراد کی تعداد کتنی ہے جن میں نہ تو کمانے کی سکت ہے اور نہ گھر بنانے کی۔ ’ایرا‘ کے بقول یہ سروے بھی فروری تک مکمل ہوگا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈیڑھ برس قبل بیرونِ ملک سے چھ ارب ڈالر سے زائد امداد کے وعدوں سے متاثر ہو کر کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان ایک ویب سائٹ بنائے گی جس پر کوئی بھی آدمی کلک کر کے دیکھ سکے گا کہ زلزلہ زدگان کے لیے کتنا پیسہ آیا، کتنا خرچ ہوا اور کہاں کہاں خرچ ہوا۔ کیا کوئی صاحب مجھے اس ویب سائٹ کا ایڈریس بتائیں گے؟؟؟ |
اسی بارے میں خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم 28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||