کشمیر: سینکڑوں آنتوں کی بیماری میں مبتلا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کوٹلی کے بعض دیہات میں بہت سارے لوگ اپنڈیسائٹس یا زائد آنت کی سوزش کا شکار ہوئے ہیں اور محمکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دو سو افراد کا اپنڈیسائٹس کا آپریشن کیاگیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اپنڈیسائٹس کے اچانک اضافے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہیں ۔ کوٹلی کے ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر ڈاکڑ عزیز ڈار کا کہنا ہے کہ جن افراد کا آپریشن کیا گیا ان میں زیادہ تر کا تعلق اس ضلع کے کوئی نصف درجن دیہات سے ہے۔ انہوں نے کہا جن کا آپریشن ہوا ان کی عمریں پانچ سے بیس سال کے درمیان ہیں اور ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ ڈاکڑ کہتے ہیں کہ اگر اپنڈیسائٹس یا زائد آنت میں سوزش ہو تو اس صورت میں مریض کے پیٹ میں شدید درد ہوتا ہے، بھوک ختم ہوتی ہے، متلی یا قے کے ساتھ ساتھ قبض یا اسہال کی بھی شکایت ہوسکتی ہے۔ کوٹلی کے محمکہ صحت کے سربراہ ڈاکڑ عزیز کا کہنا ہے کہ علم طب میں یہ واضع نہیں کہ آخر اپنڈکٹس کی سوزش کیوں ہوتی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اپنڈکس کی سوزش کی وجہ وائرس یا بیکڑیا ہوسکتے ہے یا اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو وہ کسی طرح سے اپنڈکس میں داخل ہوجائیں یا پھر پاخانہ کا کوئی حصہ اس میں داخل ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ کوٹلی کے بعض دیہات میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں متاثر ہوئے اور یہ کہ انہوں نے اس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ان کو مدد کی ضرورت ہوگی۔ تاہم ڈاکڑ عزیز کا کہنا ہے کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں پیٹ کی بیماریاں پھوٹ پڑیں26 August, 2006 | پاکستان ’ایک بیماری سب کچھ برابر کر دیتی ہے‘06 June, 2005 | پاکستان ’بیماریاں، صورت حال نہیں چھپائی‘11 December, 2005 | پاکستان پانی کی بیماریاں، ہلاکتوں میں اضافہ16 February, 2006 | پاکستان پیٹ کی بیماریوں پر غور کے لیئے کمیٹی کی تجویز02 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||