BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیٹ کی بیماریوں پر غور کے لیئے کمیٹی کی تجویز

قومی اسبملی
حکومتی وزراء نے بھی قومی اسبملی کی کمیٹی بنانے کی تجویز کی مخالفت نہیں کی۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں پینے کا آلودہ پانی فراہم کرنےاور ہزاروں افراد کے متاثر ہونے کے معاملے کی حزب مخالف اور حکومتی اراکین نے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا لیکن سپیکر نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

جمعہ کے روز پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حزب مخالف اور حکومتی اراکین نے قواعد معطل کرکے ملک کے مختلف شہروں میں آلودہ پینے کا پانی فراہم کرنے سے کئی افراد کی ہلاکت اور ہزاروں افراد کے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہونے پر تفصیلی بحث کی۔

حزب مخالف کے راجہ نادر پرویز، فرید احمد پراچہ، فوزیہ وہاب، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر اور محمد حنیف عباسی جبکہ حکومت کی جانب سے خدا بحش سمیت دیگر اراکین نے کہا کہ حکومت فوری طور پر پینے کا صاف پانی مہیا کرے۔

حزب مخالف کے اراکین نے کہا کہ ایک طرف حکومت ملک میں خوشحالی، غربت میں کمی اور اقتصادی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن دوسری جانب پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں کر پا رہی۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد، لاہور، راولپنڈی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں متاثرین ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں لیکن وہاں گلوکوز کے علاوہ حکومت کوئی انہیں دوائی بھی فراہم نہیں کر رہی۔

حکومت پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں نا کام ہوگئی ہے اور آلودہ پانی کی فراہمی سے ہزاروں افراد پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک التو پر بحث کے دوران فیصل آباد سے مسلم لیگ نواز کے رکن راجہ نادر پرویز نے کہا کہ ان کے شہر میں آلودہ پانی پینے سے تا حال سترہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں بیشتر بچے شامل ہیں۔

حکومت اور حزب اختلاف میں اتحاد
 حزب اختلاف نے معاملے کی تحقیقات اور آلودہ پانی فراہم کرنے کے ذمہ داران کو سزا دینے کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا جس کی حکومت اراکین نے بھی حمایت کی۔
انہوں نے معاملے کی تحقیقات اور آلودہ پانی فراہم کرنے کے ذمہ داران کو سزا دینے کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا جس کی حکومت اراکین نے بھی حمایت کی اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ یہ انسانی معاملہ ہے اور اگر ایوان کی کمیٹی بنائی جائے تو انہیں اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایوان کی کمیٹی چاروں صوبائی حکومتوں سے بات کرے کہ وہ فلٹر پلانٹ لگائیں اور عوام کو صاف پینے کا پانی فراہم کریں۔

بحث کے بعد سپیکر نے ’رولنگ، محفوظ کردی اور ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا یہ بجٹ اجلاس ہے اور پیر کے روز امکان ہے کہ حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے بجٹ پیش کرے گی۔

اسی بارے میں
صدر کا خطاب، رولنگ محفوظ
05 December, 2005 | پاکستان
حکومتی اراکین کا واک آؤٹ
30 August, 2005 | پاکستان
فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس
24 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد