BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 August, 2006, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیٹ کی بیماریاں پھوٹ پڑیں

زلزلہ
زلزلے سے متاثر لوگ اب پیٹ کی بیناریوں کے شکار ہوئے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق زلزے سے متاثرہ اضلاع میں قے اور اسہال کی پھوٹ پڑی ہیں۔

ان علاقوں میں اب تک چھ افراد کی موت کی خبر ہے جبکہ کافی تعداد میں لوگ ان بیماریوں کے شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکڑ اس بیماری کی وجہ آلودہ پانی بتاتے ہیں ۔

صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مظفرآباد سے کوئی اکاون کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں گجر بانڈی میں قئے اور اسہال کی وبا پھوٹ پڑی ہے اور اس چھوٹے سے گاؤں میں گزشتہ چند روز کے دوران اب تک کوئی چار سو افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہاں لوگوں کو طبعی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور صورت حال کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو روز میں صورت حال قابو میں آجائے گی ۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے اس علاقے میں زلزے سے متاثرہ اضلاع مظفرآباد اور باغ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اب تک پیٹ کی بیماریوں کی وجہ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں ۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ لوگ ضلع مظفرآباد میں متاثر ہوئے ہیں جہاں اگست کے وسط تک صرف ایک ہفتے کے دوران پانچ ہزار سے زائد مریض پیٹ کی بیماری کی شکایت کے ساتھ آئے ۔ان کا کہنا ہے کہ اب تک صرف ضلع مظفرآباد میں مزید چھ ہزار افراد کے قئے اور اسہال سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔

ڈاکڑ کہتے ہیں کہ یہ حالیہ برسوں میں پہلی بار اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہوئےہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بروقت صحت کی سہولت فراہم ہونے کی وجہ سے بہت کم ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور صورت حال قابو میں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ طبعی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ پانی ابال کر پئیں اور صفائی کا خیال رکھیں ۔

ایسی صورت میں جب متاثرہ علاقوں میں ہر طرف ملبہ اور گندگی کے ڈھیر ہیں آگاہی کی مہم زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکی ہے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جب تک شہری سہولتیں مکمل طور پر بحال نہیں ہوتیں تب تک صحت کے مسائل رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور امدادی اداروں کوچاہیئے کہ وہ لوگوں کے لیئے شہری سہولیات بحال کرنے پر توجہ دیں ۔

اسی بارے میں
’زلزلے کے یتیم‘
28 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد