کشمیر: گمنام قبروں کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک ہزار نامعلوم قبروں کے انکشاف کے بعد ایک عوامی تفتیشی تنظیم، ’انٹرنیشنل پیپلز ٹریبیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم، ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آّف ڈِس اپیئرڈ پرسنز‘ یا اے پی ڈی پی نے گزشتہ دنوں ایک سروے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ شمالی کشمیر کی صرف تین تحصیلوں میں تقریباً ایک ہزار بے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد حقوقِ انسانی کے لئے سرگرم مختلف تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ طور اس ٹریبیونل کی تشکیل پانچ اپریل کو سری نگر میں کریں گی۔ لائن آف کنٹرول پر واقع ضلع بارہ مولا کے گاؤں کیِچیِہامہ کے قبرستان میں دو سو سے زیادہ ایسی قبروں کا انکشاف ہوا ہے جن پر کوئی کتبہ نصب نہیں ہے۔ گاؤں کے لوگ ان میں دفن افراد کی شناخت سے لاعلم ہیں۔ ایک مقامی حاجی بشیر کہتے ہیں: ’انہوں نے (سکیورٹی اہلکاروں نے) ہمیں بتایا تھا کہ یہ لاشیں غیرملکی شدت پسندوں کی ہیں جو فوج سے جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ان کے چہرے مسخ تھے۔ لیکن ان کے کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ وہ عام شہری ہیں۔‘ تاہم شمالی کشمیر میں تعینات فوج کی راشٹریہ رائفلز کے ایک بریگیڈیئر کا کہنا ہے کہ ’قبریں تو ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں جو لوگ دفن ہیں انہیں شدت پسندوں نے ہی قتل کیا ہوگا۔ ہمارا کوئی جوان ملوث نہیں۔ ہمارا ریکارڈ صاف ہے، اگر کوئی ملوث تھا بھی تو ہم نے سزا دی ہے۔‘
اس تہرے قتل میں نامزد پولیس افسر راشد بِلاّ اب تک مفرور ہیں۔ ریاستی پولیس کے سربراہ شِو موراری سہائے کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی پی انہیں گمشدہ افراد کی فہرست فراہم کرے تو وہ تحقیقات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب بھی ہمیں پتا چلتا ہے کہ کہ کسی کو اغوا کیا گیا ہے، چاہے وہ جو بھی ہو، ہم نے اس کے بارے میں کیس درج کیا ہے‘۔ حقوق انسانی کے کارکن اور اے پی ڈی پی کے مشیر پرویز امروز کہتےہیں، ’ہمیں یقین ہے کہ ان قبروں میں ان افراد کو دفنایا گیا ہے جو حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ایسے افراد کو ’غیرملکی شدت پسند‘ قرار دے کر پولیس تحویل میں ہلاکتوں پر پردہ ڈالتی ہے‘۔
اس کے بعد پانچ قبروں سے ایسے بے گناہ کشمیریوں کی لاشیں برآمد کی گئیں، جنہیں گرفتاری کے بعد پاکستانی شدت پسند قرار دے کر فرضی جھڑپوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ شدید عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے ہندوستان کے کلیدی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دیا اور پولیس کے اعلیٰ افسر سمیت سات اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن حقوق انسانی کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ بے نام قبروں کے انکشاف نے سرکاری سطح پر جاری تحقیقات کو مزید غیر معتبر بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں عالمی ٹریبونل کے قیام کو معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔ مجوزہ عالمی ٹریبیونل میں امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کی پروفیسر ڈاکڑ انگنا چٹرجی، ہندوستان میں حقوق انسانی کے کارکن اور صحافی گوتم نولکھا، جموں کشمیر کی انسانی حقوق تنظیموں کے اتحاد جے کے سی سی ایس کے سربراہ ایڈوکیٹ پرویز امروز، ہندوستانی سپریم کورٹ کے وکیل اور رضاکار ایڈوکیٹ مِہیر دیسائی، جے کے سی سی ایس کے خُرم پرویز اور صحافی ظہیر الدین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پچھلے کئی سال سے مختلف علیٰحدگی پسند حلقے اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں سرینگر دھماکہ، ایک ہلاک19 March, 2008 | انڈیا کشمیر: کتّے مارنے کی مہم معطل08 March, 2008 | انڈیا ’خون کو کیسے نہیں پہچانیں گے‘04 March, 2008 | انڈیا زرداری کے بیان پر کشمیری ناراض03 March, 2008 | انڈیا کشمیر: مشرف حامی سیاست کو دھچکہ23 February, 2008 | انڈیا انڈیا: تین پاکستانی فوجی گرفتار11 February, 2008 | انڈیا کشمیر:شراب نوشی میں نمایاں اضافہ30 March, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||