BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 April, 2008, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: گمنام قبروں کی تحقیقات

متاثرین
لاپتہ افراد کے لواحقین کا سری نگر میں مظاہرہ
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک ہزار نامعلوم قبروں کے انکشاف کے بعد ایک عوامی تفتیشی تنظیم، ’انٹرنیشنل پیپلز ٹریبیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔

گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم، ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آّف ڈِس اپیئرڈ پرسنز‘ یا اے پی ڈی پی نے گزشتہ دنوں ایک سروے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ شمالی کشمیر کی صرف تین تحصیلوں میں تقریباً ایک ہزار بے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

اس انکشاف کے بعد حقوقِ انسانی کے لئے سرگرم مختلف تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ طور اس ٹریبیونل کی تشکیل پانچ اپریل کو سری نگر میں کریں گی۔

لائن آف کنٹرول پر واقع ضلع بارہ مولا کے گاؤں کیِچیِہامہ کے قبرستان میں دو سو سے زیادہ ایسی قبروں کا انکشاف ہوا ہے جن پر کوئی کتبہ نصب نہیں ہے۔ گاؤں کے لوگ ان میں دفن افراد کی شناخت سے لاعلم ہیں۔ ایک مقامی حاجی بشیر کہتے ہیں: ’انہوں نے (سکیورٹی اہلکاروں نے) ہمیں بتایا تھا کہ یہ لاشیں غیرملکی شدت پسندوں کی ہیں جو فوج سے جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ان کے چہرے مسخ تھے۔ لیکن ان کے کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ وہ عام شہری ہیں۔‘

تاہم شمالی کشمیر میں تعینات فوج کی راشٹریہ رائفلز کے ایک بریگیڈیئر کا کہنا ہے کہ ’قبریں تو ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں جو لوگ دفن ہیں انہیں شدت پسندوں نے ہی قتل کیا ہوگا۔ ہمارا کوئی جوان ملوث نہیں۔ ہمارا ریکارڈ صاف ہے، اگر کوئی ملوث تھا بھی تو ہم نے سزا دی ہے۔‘

’غیر ملکی شدت پسند‘
 ہمیں یقین ہے کہ ان قبروں میں ان افراد کو دفنایا گیا ہے جو حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ایسے افراد کو ’غیرملکی شدت پسند‘ قرار دے کر پولیس تحویل میں ہلاکتوں پر پردہ ڈالتی ہے
پرویز امروز
حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ جب پہلی بار دو نامعلوم لاشیں ان کے گاؤں لائی گئی تھیں تو گاؤں والوں نے ان کی تصاویر اتار کر حریت کانفرنس والوں کو دی تھیں۔ اور جب ان لاشوں کو قبروں سے نکالا گیا تو پتہ چلا کہ مقتولین کا تعلق سری نگر سے تھا اور انہیں ایک تیسرے شخص کے ساتھ پولیس کی حراست ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس تہرے قتل میں نامزد پولیس افسر راشد بِلاّ اب تک مفرور ہیں۔

ریاستی پولیس کے سربراہ شِو موراری سہائے کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی پی انہیں گمشدہ افراد کی فہرست فراہم کرے تو وہ تحقیقات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب بھی ہمیں پتا چلتا ہے کہ کہ کسی کو اغوا کیا گیا ہے، چاہے وہ جو بھی ہو، ہم نے اس کے بارے میں کیس درج کیا ہے‘۔

حقوق انسانی کے کارکن اور اے پی ڈی پی کے مشیر پرویز امروز کہتےہیں، ’ہمیں یقین ہے کہ ان قبروں میں ان افراد کو دفنایا گیا ہے جو حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ایسے افراد کو ’غیرملکی شدت پسند‘ قرار دے کر پولیس تحویل میں ہلاکتوں پر پردہ ڈالتی ہے‘۔

عام شہری
 ’انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ لاشیں غیرملکی شدت پسندوں کی ہیں جو فوج سے جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ان کے چہرے مسخ تھے۔ لیکن ان کے کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ وہ عام شہری ہیں۔
حاجی بشیر احمد
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو ہزار سات کے اوائل میں جنوبی کشمیر کے ایک ترکھان عبدالرحمان پڈر کی گمشدگی سے متعلق کیس کی چھان بین کے دوران پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ ترقی کی لالچ میں پولیس کے ایک افسر نے پڈرکو اغوا کیا اور بعد میں غیر ملکی جنگجو قرار دے کر ہلاک کر دیا اور گاندربل کے مضافات میں ایک بے نام قبر میں دفن کردیا تھا۔

اس کے بعد پانچ قبروں سے ایسے بے گناہ کشمیریوں کی لاشیں برآمد کی گئیں، جنہیں گرفتاری کے بعد پاکستانی شدت پسند قرار دے کر فرضی جھڑپوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

شدید عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے ہندوستان کے کلیدی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دیا اور پولیس کے اعلیٰ افسر سمیت سات اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔

لیکن حقوق انسانی کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ بے نام قبروں کے انکشاف نے سرکاری سطح پر جاری تحقیقات کو مزید غیر معتبر بنا دیا ہے۔

اس تناظر میں عالمی ٹریبونل کے قیام کو معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔

مجوزہ عالمی ٹریبیونل میں امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کی پروفیسر ڈاکڑ انگنا چٹرجی، ہندوستان میں حقوق انسانی کے کارکن اور صحافی گوتم نولکھا، جموں کشمیر کی انسانی حقوق تنظیموں کے اتحاد جے کے سی سی ایس کے سربراہ ایڈوکیٹ پرویز امروز، ہندوستانی سپریم کورٹ کے وکیل اور رضاکار ایڈوکیٹ مِہیر دیسائی، جے کے سی سی ایس کے خُرم پرویز اور صحافی ظہیر الدین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے کئی سال سے مختلف علیٰحدگی پسند حلقے اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

کشمیر سے۔۔۔
’عید آئی لیکن ہمارے یہاں چاند نہیں نکلا‘
شبنم’زندگی بیوہ سے بدتر‘
لاپتہ کشمیریوں کے اہلِخانہ کے لیے انتظار کا عذاب
عائشہانصاف کا انتظار
جنسی استحصال کا شکار عائشہ کو انصاف چاہیئے
کشمیر سنگھ خون کی پہچان
کشمیرکے بیٹے نے کہا ابّا خون کو پہچان لیں گے
کشمیری خودارادیت
کشمیر میں علیحدگی پسندوں میں اتحاد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد