کشمیر: کتّے مارنے کی مہم معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرکاری اہلکاروں نے سرینگر میں سڑکوں پر آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارنے کی مہم فی الوقت پابندی لگا دی ہے۔ اہلکاروں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی تنظیموں نے اس بے رحم اقدام کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھانے کی دھمکی دی تھی۔ مہم کے تحت سری نگر میں اب تک پانچ سو کتّوں کو زہر دے کر مارا جا چکا ہے لیکن شہر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب وہ جانوروں کی کمیکل کے ذریعے نسبندی کريں گے۔ اس مہم کی شروعات دراصل کتوں سے پھیلنے والی ریبیز کی بیماری کے خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شہر کے صحت کے اہلکار ڈاکٹر ریاض احمد کا کہنا ہے’ کتّے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور یہ انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں‘۔ جانوروں کے تحفظات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ایک بے رحم قدم ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر کتّے میں ریبیز بمیاری کا وائرس نہیں پایا جاتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کّتوں کو یوں زہر دے کر مارناغیر قانونی ہے اور اس معاملے میں وہ عدالت کا بھی رخ کر سکتے ہیں۔ اس دھمکی کے بعد جمعہ کو اس مہم کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مینوسپل کارپوریشن نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا’ ہم اب کتّوں کو زہر دے کر نہیں ماریں گے‘۔ ریبیز ہندوستان کے کئی شہروں میں ایک عام بیماری ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال تقریبا 55000 اموات ریبیز کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ہندوستان میں پوری دنیا میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد عالمی تعداد کی آدھی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا پاک و ہند تعلقات: نشیب و فراز کا سال24 December, 2006 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا علیحدگی میں بات کریں: میر واعظ22 May, 2006 | انڈیا کشمیر: دو دن میں پینتیس ہندو قتل01 May, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||