ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | فاطمہ کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ وہ عید کے روز مختلف ضیافتوں کا روایتی اہتمام کیسے کریں گی |
ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر کے پٹن قصبہ کی رہنے والی فاطمہ بی بی عید الاضحیٰ کی آمد پر پریشان ہیں۔ ان کا دو منزلہ مکان ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ یہ سب چھ نومبر کو جنگجوؤں اور فوج کے درمیان ہونے والے ایک طویل ترین تصادم کا نتیجہ ہے جس میں فاطمہ کے گھر کے علاوہ بیس دیگر رہائشی مکان بھی جزوی یا مکمل طور تباہ ہوگئے۔ فاطمہ کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ وہ عید کے روز مختلف ضیافتوں کا روایتی اہتمام کیسے کریں گی اور بچوں نے عیدی کا تقاضہ کیا تو انہیں کیا جواب دیا جائے۔ لیکن ان کا سولہ سالہ بیٹا وسیم زندگی کی اس تلخ حقیقت کو قبول کرچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے: ’کیسی عید؟ جب ہمارا سب کچھ لٹ چکا ہے۔ گھر نہیں، بستر نہیں، ٹین کے شیڈ میں ہم لوگ سردی کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔‘ فاطمہ کے خاوند یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں اور اپنے بےزمین کنبہ کی کفالت کے لئے ان کے پاس دوسرا کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے۔ فاطمہ کے گھر سے ملحقہ ساٹھ سالہ نانوائی محمد مقبول کا خاکستر مکان ہے۔ ان کے بچے اپنے جلے مسکن سے ادھ جلی لکڑی سمیٹ رہے ہیں۔ ان سے عید کے بارے پوچھیئے تو خاموش نظریں سب کچھ بیان کرتی ہیں۔ مقبول اپنے تباہ حال مکان کو تکتے ہوئے کہتے ہیں: ’میں نے قربانی کے لئے بھیڑ کا انتظام کیا تھا، مویشیوں کے ساتھ وہ بھی جل گیا۔ میری دکان بھی جل گئی۔ گھر کے لئے نیا فرش لایا تھا، وہ بھی جل گیا۔ کچھ نہیں بچا۔‘  | سترہ سالہ مسلح شورش  سرینگر سے شمال کی جانب پہلا گنجان آباد علاقہ پٹن سترہ سالہ مسلح شورش کے دوران بہت زیادہ متاثر رہا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ نوجوان مسلح گروپوں کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن میں سے بیشتر تصادموں کے دوران مارے گئے۔ شمالی کشمیر میں جنگجوؤں کے یتم بچوں اور بیواؤں کی سب سے زیادہ تعداد یہیں آباد ہے۔  |
سرینگر سے شمال کی جانب پہلا گنجان آباد علاقہ پٹن سترہ سالہ مسلح شورش کے دوران بہت زیادہ متاثر رہا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ نوجوان مسلح گروپوں کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن میں سے بیشتر تصادموں کے دوران مارے گئے۔ شمالی کشمیر میں جنگجوؤں کے یتم بچوں اور بیواؤں کی سب سے زیادہ تعداد یہیں آباد ہے۔ مقامی شہری علی محمد کا کہنا ہے کہ چھ نومبر کا اینکاؤنٹر نوے کے عشرے میں ہونے والے واقعات کی محض یاد دہانی تھا۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ چھ نومبر کے بعد سے فوج نے یہاں کے باشندوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار سات میں جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والا یہ سب سے بڑا تصادم تھا جس میں ایک افسر سمیت چار فوجی اور تین جنگجو مارے گئے۔ تین روز تک دن رات جاری رہنے والے اس آپریشن میں سترہ مکانات تباہ ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ آرم محلہ، جہاں یہ تصام ہوا، پچاس کنبوں پر مشتمل ہے۔ یہاں عید کے موقع پر کوئی قربانی نہیں کر پایا۔ ایک غم زدہ خاتون روبیہ اختر نے بتایا کہ ’ہم تو خود قربان ہوگئے، قربانی کیا کرینگے۔ عید آئی ہے لیکن ہمارے یہاں چاند نہیں نکلا۔‘  | | | ہم پینتیس گھنٹے پھنسے رہے: عامر اور ہارون | مقامی مزدور معراج الدین بٹ کا گھر مٹی کا ہے۔ لیکن گولہ باری میں ان کی ایک دیوار چھلنی ہوگئی ہے اور خدشہ ہے کہ وہ ڈھہ جائے۔ معراج الدین کہتے ہیں: ’خدا کرے عید کے روز نہ گرے۔‘ اکثر کنبے عارضی شیڈوں میں مٹی کے چولہوں پر کھانا پکاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی دادرسی نہیں کی۔ معراج الدین اور محمد مقبول کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ کے یہاں بار بار کی فریاد کے باوجود ان کی کوئی امداد یا اعانت نہیں کی گئی۔ اس تصادم کے دوران معجزاتی طور پر بچ نکلنے والے پندرہ سالہ عامر اور نو سالہ ہارون کی کہانی حیرت انگیز ہے۔ تصادم کے پینتالیس روز بعد بھی دونوں کے چہروں پر ڈر ہے۔ عامر کے مطابق جب اینکاؤنٹر شروع ہوا تو وہ نزدیکی میدان میں کھیل رہے تھے اور انہوں نے گولیوں کی آواز سن کر ایک مکان میں پناہ لے لی جہاں ان کے ہمراہ پانچ ریلوے انجینئر بھی پھنس گئے۔ ’ہم پینتیس گھنٹے تک پھنسے رہے۔ ہارون تو رو رہا تھا۔ میں اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ اب ہمیں مرنا ہے۔ اسی دوران مکان کے اندر کہیں سے ایک ہتھ گولہ آیا جس سے دو اندرونی دیواریں ڈھہ گئیں۔ اس کے بعد ہارون کی ہمت بھی بڑھنے لگی، پھر اس کے بعد اسے گولیوں کی آواز سے کم ڈر لگنے لگا۔‘ ان بچوں کے مطابق پولیس کے ایک بچاؤ دستے نے انہیں اور دیگر پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت باہر نکالا۔ فوج کا کہنا ہے کہ دو ہزار سات کے دوران وادی میں سب سے زیادہ کامیاب آپریشن ہوئے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن ان کے لئے دوہری قیامت ہوتا ہے۔ آرم محلہ پٹن کے علی محمد کا کہنا ہے: ’ایک تو آپریشن کے دوران جان ومال جاتا ہے اور پھر آپریشن کے بعد فوج ہمیں پیٹتی ہے۔ چھ نومبر سے ہم مار کھا رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ ہمیں عید کے روز بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘ |